کراچی کے علاقے بفر زون سے ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک گھریلو ملازمہ پر تشدد کیا جا رہا ہے اور اس دوران خاتون کو سیڑھیوں سے دھکا بھی دیا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 11 دسمبر کو پیش آیا، جس میں ملزم نعمان گھریلو ملازمہ پر تشدد کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد، اداکارہ ماہرہ خان کا انصاف کا مطالبہ
پولیس کے مطابق، نعمان اس وقت فرار ہے اور متاثرہ خاتون کی مدعیت میں تشدد کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس پرتشدد واقعے میں ملوث ملزم نعمان کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں اس نے الزام عائد کیا ہے کہ تشدد کی ویڈیوز ایک سازش کے تحت بنائی گئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل کی گئیں۔
کراچی کے علاقے بفرزون میں گھریلو ملازمہ پر تشدد کی ویڈیو
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کا واقعہ 11 دسمبر کو پیش آیا تھا، خاتون پر تشدد کرنے والا ملزم نعمان فرار ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ pic.twitter.com/FRoU76pGZl— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) December 19, 2025
نعمان نے کہا کہ نیچے رہنے والے کرایہ دار مختیار نے گھر خالی کرانے کی نیت سے ویڈیوز بنائیں اور انہیں جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر پھیلایا۔
نعمان نے بتایا کہ پانی کے معاملے پر مختیار سے پہلے بھی ان کا جھگڑا ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں ایک اور کم سن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا کیس، عدالت نے ملزمہ کو جیل بھیج دیا
اس کے مطابق مختیار نے اپنی ماسی کو اُکسایا، جس نے ان کے بیٹے پر تشدد کیا، اور اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔
نعمان کا کہنا ہے کہ مختیار نے سازش کے تحت ویڈیو کا صرف آدھا حصہ وائرل کیا۔
مزید پڑھیں: سکھر: کم سن گھریلو ملازمہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار
اس کے مطابق واقعے کے بعد انہوں نے پولیس کے پاس جاکر خود بتایا کہ یہ واقعہ 10 دسمبر کو پیش آیا لیکن ویڈیو بعد میں وائرل ہوئی۔
نعمان نے تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور انہوں نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے معافی کی کوشش کی تھی۔
مزید پڑھیں: رضوانہ تشدد کیس: 5 بار طلبی کے باوجود جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہوئے
نعمان کے مطابق ان سے پیسوں کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو وہ ادا نہیں کر سکے۔
تاہم، ان کا کہنا ہے کہ واقعے کو جان بوجھ کر غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا۔














