امریکی محکمۂ انصاف نے مرحوم فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کر دی ہیں، جن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا تفصیلی ذکر موجود ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بہت کم مواد سامنے آیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جاری کی گئی بیشتر دستاویزات شدید طور پر سنسر شدہ ہیں اور کئی فائلز مکمل طور پر سیاہ کر دی گئی ہیں۔ ان دستاویزات میں ایپسٹین سے متعلق مختلف تحقیقات کے شواہد اور تصاویر شامل ہیں، جن میں بل کلنٹن کی موجودگی نمایاں ہے، تاہم ٹرمپ سے متعلق تصاویر یا واضح حوالہ جات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی کانگریس ایپسٹین فائلز جاری کرنے پر متفق، ٹرمپ نے بھی اعتراض ختم کردیا
یہ جزوی انکشاف امریکی کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے اس قانون کے تحت کیا گیا جس کے ذریعے ایپسٹین فائلز کو منظرِ عام پر لانا لازمی قرار دیا گیا تھا، حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے ان دستاویزات کو خفیہ رکھنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔
محکمۂ انصاف نے اعتراف کیا ہے کہ مزید لاکھوں صفحات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ مزید دستاویزات بھی جاری کی جا سکتی ہیں، جن میں ممکنہ طور پر دیگر اہم شخصیات کا ذکر شامل ہو۔
دوسری جانب بل کلنٹن کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان دستاویزات کے ذریعے توجہ اصل معاملے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کلنٹن اس سے قبل ایپسٹین سے سماجی تعلقات پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں اور کسی بھی مجرمانہ سرگرمی سے لاعلمی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’چھپانے کو کچھ نہیں‘ ٹرمپ کا ریپبلکنز کو ایپسٹین فائلز جاری کرنے کے لیے ووٹ دینے کا مطالبہ
سیاسی سطح پر بھی دستاویزات کے اجرا پر تنقید سامنے آئی ہے۔ کئی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے اسے نامکمل اور قانون کی روح کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ کے حامیوں میں بھی ایپسٹین معاملے پر حکومتی مؤقف سے مایوسی پائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایپسٹین کیس پہلے ہی امریکی سیاست میں ایک حساس اور متنازع معاملہ بن چکا ہے، جس کے اثرات آئندہ وسط مدتی انتخابات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔














