بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کے شہید رہنما اور انقلابی منچو کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ دارالحکومت ڈھاکا میں ادا کر دی گئی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس، کابینہ کے متعدد ارکان، سیاسی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور طلبا تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
ওসমান হাদির জানাজায় অংশ নিতে লাখ লাখ মানুষের ঢল।
দল, বাম, কচুক্ষেত, এজেন্সি ইত্যাদি সংঘরা গতকাল থেকে চেষ্টা করলো, গুজব ছরালো, মিথ্যার মাধ্যমে মানুষকে বিভ্রান্ত করার চেষ্টা করলো যেনো শহিদ হাদির জানাজায় বেশি লোক উপস্থিত হতে না পারে! কিন্তু জনতা তাদেরকে বৃদ্ধা আঙ্গুল দেখালো। pic.twitter.com/2k0nxBsQ2G
— চব্বিশের যোদ্ধা • Warriors of 24 (@Warriorsof24) December 20, 2025
مزید پڑھیں:عثمان ہادی کے انتقال پر بنگلہ دیش میں آج سرکاری سوگ کا اعلان
نمازِ جنازہ مانیِک میا ایونیو سے متصل قومی پارلیمنٹ (جاتیہ سانگسد بھبن) کے ساؤتھ پلازہ کے قریب ادا کی گئی۔ جنازے سے قبل دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے لوگ چھوٹے جلوسوں کی صورت میں جنازہ گاہ پہنچتے رہے، جس کے باعث علاقے میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔
نمازِ جنازہ کے دوران اور بعد میں شرکا نے شہید عثمان ہادی کے حق میں اور انصاف کے مطالبے پر مبنی نعرے لگائے، جن میں ’ہم سب ہمیشہ ہادی بنیں گے، جدوجہد جاری رہے گی‘ اور ’ہادی بھائی کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے‘ نمایاں تھے۔
Millions gathered in and around area of Bangladesh’s National Parliament Building for the funeral prayer of Shaheed Usman Hadi. A funeral of this scale has never been seen in the country’s history.May Allah (SWT) grant him the highest place in Jannah. Ameen. pic.twitter.com/zt50SPh0Gf
— Defence research forum DRF (@Defres360) December 20, 2025
امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس نفری اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے دستے تعینات کیے گئے تھے۔ ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق قریباً ایک ہزار باڈی وارن کیمروں سے لیس اہلکار سیکیورٹی پر مامور تھے، جبکہ بی جی بی کے 20 پلاٹون پارلیمنٹ اور اطراف کے حساس علاقوں میں تعینات رہے۔
حکومت کی جانب سے جنازے میں شریک افراد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کسی قسم کے بیگ یا بھاری سامان ساتھ نہ لائیں، جبکہ پارلیمنٹ کے اطراف ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی عائد رہی۔
বড় ভাই আবু বকর সিদ্দিকের ইমামতিতে জুলাই গণ অভ্যুত্থানের সম্মুখভাগের যোদ্ধা এবং ইনকিলাব মঞ্চের মুখপাত্র শহীদ শরিফ ওসমান হাদির নামাজে জানাজা সম্পন্ন হয়েছে।
লাখো মানুষের উপস্থিতি বুঝিয়ে দিচ্ছে হাদি কি ছিলেন আমাদের জন্য এই দেশের জন্য। #OsmanHadi pic.twitter.com/s7bmUMqbqV— Hasnat Abdullah (@HasnatAb_dullah) December 20, 2025
مزید پڑھیں:ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب ہال کا نام ’شہید عثمان ہادی ہال‘ رکھنے کا مطالبہ
عثمان ہادی کو ان کے اہلِخانہ کی خواہش کے مطابق ڈھاکا یونیورسٹی کیمپس میں قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے مزار کے قریب سپردِ خاک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو پرانا پلٹن کے علاقے میں رکشے پر سفر کے دوران سر میں گولی ماری گئی تھی۔ انہیں پہلے ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں وہ 18 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کا جسدِ خاکی جمعہ کی شام ڈھاکا پہنچایا گیا تھا۔














