پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شعبے نے مالی سال 2025-26 میں برآمدات کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات پہلی مرتبہ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی 3.475 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں قریباً 29 فیصد زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں:او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے سربراہی سنبھال لی
ماہرین کے مطابق آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافے کے پیچھے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ(BPO)، سافٹ ویئر بطور سروس (SaaS) اور گیمنگ انڈسٹری کی تیز رفتار ترقی بنیادی عوامل ہیں۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شعبے نے مالی سال 2025-26 میں برآمدات کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا۔@KulAalam pic.twitter.com/YzdiJ8jrl8— Media Talk (@mediatalk922) July 14, 2026
پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے جاپان، سنگاپور اور ایشیا پیسیفک کی دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں اپنی موجودگی مضبوط بنائی، جس کے نتیجے میں برآمدی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ٹیکنالوجی اداروں نے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر کے برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈیجیٹل سروسز کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب، نئی بین الاقوامی منڈیوں میں توسیع اور ملکی آئی ٹی کمپنیوں کی بہتر مسابقتی صلاحیت نے برآمدات میں اس غیرمعمولی اضافے کو ممکن بنایا ہے۔

مزید پڑھیں:پاک امریکا تجارتی مذاکرات: کیا پاکستانی برآمدات کو امریکی ٹیرف میں ریلیف ملے گا؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں یہ پیش رفت نہ صرف عالمی منڈیوں میں پاکستانی ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہے بلکہ ملکی معیشت، زرِمبادلہ کے ذخائر اور بین الاقوامی معاشی روابط کے استحکام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔













