دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی فلو وائرس، خاص طور پر انفلوئنزا اے (H3N2) کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں صحت کارڈ کے ذریعے کیا صرف خیبرپختونخوا کے مریضوں کا مفت علاج ہورہا ہے؟
قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے مطابق ملک بھر میں سانس کی بیماریوں اور فلو سے مشابہ علامات کے 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے ٹیسٹ کیے گئے نمونوں کا ایک قابل ذکر حصہ H3N2 وائرس کے لیے مثبت پایا گیا ہے۔
اسی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر اسے ’سپر فلو‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ H3N2 کوئی نیا وائرس نہیں بلکہ موسمی فلو کی ایک معروف قسم ہے جو ہر سال کسی نہ کسی شکل میں گردش کرتی ہے۔
تاہم اس سال اس وائرس میں معمولی جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جنہیں سائنسی زبان میںSub-clade K کہا جاتا ہے۔ انہی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ وائرس نسبتاً زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اگرچہ اس سے ہونے والی بیماری عام فلو سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہو رہی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق شمالی نصف کرہ میں رواں برس فلو کی سرگرمی معمول سے کچھ پہلے شروع ہوئی ہے اور کئی ممالک میں H3N2 کی یہی قسم زیادہ نمایاں ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب کابینہ کا اجلاس: تعلیم، ٹیکنالوجی، صحت اور عوامی سہولیات کے حوالے سے اہم فیصلے
یورپ، امریکا اور ایشیا کے بعض حصوں میں بھی صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ بخار، کھانسی اور سانس کی تکالیف کے ساتھ اسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی صورت حال اسی عالمی رجحان کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق H3N2 فلو کی علامات عام زکام کے مقابلے میں اچانک اور نسبتاً شدید ہو سکتی ہیں۔ مریضوں میں تیز بخار، گلے میں درد، کھانسی، ناک کا بہنا یا بند ہونا، جسم میں درد اور غیر معمولی تھکاوٹ عام طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
زیادہ تر مریض چند دن میں صحت یاب ہو جاتے ہیں تاہم بعض افراد میں علامات طویل ہو سکتی ہیں جس سے روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔
یہ وائرس کن کے لیے زیادہ خطرناک؟
صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے زیادہ خطرہ بن سکتا ہے۔
کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد میں پیچیدگیوں کا امکان نسبتاً زیادہ ہوتا ہے جس کے باعث انہیں بروقت طبی مشورہ لینے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
اسپتالوں کو بھی الرٹ رہنے اور فلو کے مریضوں کے لیے مناسب انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: شعبہ صحت میں سرمایہ کاری سے متعلق رکاوٹیں دور کی جائیں، وزیراعظم کی ہدایت
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ H3N2 یا جسے عوامی سطح پر سپر فلو کہا جا رہا ہے سے بچاؤ کے لیے سادہ مگر مسلسل احتیاطی تدابیر سب سے مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
پبلک ہیلتھ ماہر اور چائلڈ اسپشلسٹ ڈاکٹر شہرام تبسم کا کہنا ہے کہ یہ وائرس بنیادی طور پر کھانسی، چھینک اور قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے اس لیے روزمرہ زندگی میں احتیاطی رویہ اپنانا نہایت ضروری ہے۔
ڈاکٹر شہرام تبسم کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ علامات کو معمولی زکام سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں جو وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔
ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فلو ویکسین اس بیماری سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیادہ خطرے میں ہیں۔
ڈاکٹر شہرام تبسم کے مطابق ویکسین وائرس کو مکمل طور پر روکنے کی ضمانت تو نہیں دیتی لیکن یہ بیماری کی شدت کو واضح طور پر کم کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگ افراد اور دائمی بیماریوں کے مریضوں کو خاص طور پر ویکسین لگوانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ملک میں پولیو کیسز 74 سے کم ہو کر 30 رہ گئے ہیں، وزیر صحت
ڈاکٹروں کے مطابق ذاتی صفائی فلو سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بار بار صابن سے ہاتھ دھونا، سینیٹائزر کا استعمال اور چہرے کو غیر ضروری طور پر چھونے سے گریز کرنے سے وائرس کے جسم میں داخل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بند اور زیادہ رش والی جگہوں میں ماسک کا استعمال ایک مؤثر حفاظتی قدم ثابت ہو سکتا ہے خاص طور پر اگر اردگرد کسی کو فلو جیسی علامات ہوں۔
ایسی علامات میں کیا کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر شہرام تبسم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی شخص میں بخار، کھانسی، جسم درد یا شدید تھکاوٹ جیسی علامات ظاہر ہوں تو اسے چاہیے کہ گھر میں آرام کرے اور دوسروں سے فاصلہ رکھے۔
انہوں نے بتایا کہ کام یا اسکول جانا نہ صرف مریض کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے بلکہ اس سے وائرس مزید لوگوں میں پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا اور خود علاج سے گریز کرنا بھی نہایت اہم ہے۔
غذائیت کے ماہر زین مغل کے مطابق مضبوط قوت مدافعت فلو کے خلاف قدرتی دفاع کا کام کرتی ہے۔ متوازن غذا، مناسب نیند، پانی کا زیادہ استعمال اور ذہنی دباؤ سے بچاؤ ایسے عوامل ہیں جو جسم کو وائرس سے لڑنے کے قابل بناتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں فلو کی علامات زیادہ دیر تک رہ سکتی ہیں اس لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ فلو کی لہر کنٹرول کی جاسکتی ہے بشرطیکہ عوام سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں منرل واٹر کے غیرمعیاری اور مضر صحت برانڈز کونسے ہیں؟ فہرست جاری
ان کے مطابق خوف پھیلانے کے بجائے درست معلومات، احتیاط اور بروقت علاج ہی اس وائرس سے محفوظ رہنے کا مؤثر طریقہ ہے۔














