وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موسمی انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ سامنے آنے لگا ہے، جس کے بعد حکومت اور قومی ادارۂ صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
قومی ادارۂ صحت کے مطابق موسمی انفلوئنزا ایک وائرل سانس کی بیماری ہے جو انفلوئنزا اے اور بی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بزرگ افراد، کم عمر بچے، حاملہ خواتین، قوتِ مدافعت کی کمی کا شکار افراد اور کینسر، ذیابیطس، دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریض اس وائرس سے جلد متاثر ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں سپر فلو کتنی تباہی مچا رہا ہے، اس سے محفوظ کیسے رہا جا سکتا ہے؟
ادارے نے بتایا کہ انفلوئنزا کا وائرس کھانسی یا چھینک کے ذریعے فضا میں پھیلتا ہے اور متاثرہ شخص کے ہاتھوں کے ذریعے اردگرد موجود اشیاء پر منتقل ہو جاتا ہے۔ جب کوئی صحت مند فرد اس متاثرہ فضا میں سانس لیتا ہے یا آلودہ سطحوں کو چھوتا ہے تو وائرس منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
قومی ادارۂ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک کو رومال یا ٹشو پیپر سے ڈھانپیں اور استعمال کے بعد ٹشو کو محفوظ طریقے سے تلف کریں۔
ہاتھوں کو صاف پانی اور صابن سے بار بار دھوئیں، آنکھوں، منہ اور ناک کو غیر ضروری طور پر ہاتھ لگانے سے گریز کریں اور ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔
مزید پڑھیں: ملک میں انفلوئنزا کی نئی قسم کی نشاندہی، ویکسین دستیاب نہ ہونے کا انکشاف
مزید ہدایت میں کہا گیا ہے کہ موسمی انفلوئنزا سے متاثرہ افراد ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے اجتناب کریں، گھروں میں رہیں اور لوگوں سے میل جول محدود رکھیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
قومی ادارۂ صحت کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے انفلوئنزا کے اثرات اور پھیلاؤ کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔













