وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا ہے کہ آج پی آئی اے کی نجکاری کا دن ہے اور اس کے لیے متعلقہ حکام اور کابینہ ارکان نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے کام کیا ہے۔ انہوں نے نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ نجکاری کے لیے لفافوں میں بولیاں موصول ہو گئی ہیں اور بولی کا عمل براہِ راست دکھایا جا رہا ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بولی کے عمل کو شفاف بنانا ضروری ہے اور کامیاب بولی سے معاملات بہتر ہوں گے۔ شفاف بولی کے لیے یکسوئی کے ساتھ کام جاری ہے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شروع، 75 فیصد حصص کی خریداری کے لیے 3 کمپنیاں میدان میں
وزیراعظم نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری طے شدہ ضوابط اور شفاف طریقے سے کی جا رہی ہے تاکہ قومی کیریئر کی بحالی اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے انڈر 19 ایشیا کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ٹیم اس کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کھیل کے مظاہرے پرانے وقتوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کنگ عبدالعزیز ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ یہ ایوارڈ پوری پاکستانی قوم کے لیے باعثِ عزت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، جبکہ حکومت پہلے بھی مذاکرات کی دعوت دے چکی ہے، اسمبلی کے فلور سے بھی یہ دعوت دی گئی۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کن مرحلہ، بولی میں حصہ لینے والی کاروباری کمپنیاں کونسی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی ضروری ہے اور مذاکرات کی آڑ میں بلیک میلنگ نہیں چل سکتی۔ جائز مطالبات پر ہی بات ہو سکتی ہے اور حکومت ہر اقدام کے لیے تیار ہے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔














