ملائیشیا کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو سرکاری فنڈز میں اربوں ڈالر کی خرد برد سے متعلق ون ملائیشیا ڈیولپمنٹ برہاد (ون ایم ڈی بی) اسکینڈل کے ایک اور بڑے مقدمے میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے جرم میں مجرم قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ عالمی رہنما جن کو کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات پر سزا کا سامنا کرنا پڑا
72 سالہ نجیب رزاق پر الزام تھا کہ انہوں نے ملکی خودمختار ویلتھ فنڈ ون ایم بی ڈی سے تقریباً 2.3 ارب ملائیشین رنگٹ (569 ملین امریکی ڈالر) کی خرد برد کی۔ جمعے 26 دسمبر کو عدالت نے انہیں اختیارات کے ناجائز استعمال کے 4 اور منی لانڈرنگ کے 21 الزامات میں قصوروار ٹھہرایا، تاہم سزا کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
نجیب رزاق اس سے قبل بھی مذکورہ اسکینڈل سے متعلق ایک اور مقدمے میں سزا یافتہ ہونے کے باعث جیل میں ہیں۔ وہ اپریل 2009 سے مئی 2018 تک نو برس ملائیشیا کے چھٹے وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ فیصلہ 7 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آیا جس کے دوران 76 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں شکست کے بعد نجیب رزاق کو اسکینڈل سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیے: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے
یہ فیصلہ ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پتراجایا میں سنایا گیا اور یہ رواں ہفتے میں سابق وزیراعظم کے لیے دوسرا بڑا دھچکا ہے۔ وہ سنہ 2022 سے قید میں ہیں جبکہ پیر کے روز عدالت نے ان کی باقی سزا گھر پر گزارنے کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔
اس کے باوجود نجیب رزاق کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو عدالتی فیصلوں کو غیر منصفانہ قرار دیتی ہے۔ جمعے کے روز بھی درجنوں افراد پتراجایا میں عدالت کے باہر جمع ہو کر ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے۔
مزید پڑھیں: پُر تشدد انتہاپسندی کی روک تھام: ملائیشیا کے منصوبے سے پاکستان کیسے مستفید ہوسکتا ہے؟
دوسری جانب نجیب رزاق کی اہلیہ روزماہ منصور کو بھی سنہ 2022 میں رشوت کے ایک مقدمے میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بعد ضمانت پر رہا ہیں۔













