ایک ایسے خطے میں جہاں جوہری صلاحیتیں توازنِ طاقت کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہیں، بھارت میں ریڈیواکٹو اور نیوکلیئر مواد سے متعلق بار بار سامنے آنے والے واقعات محض داخلی سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں رہے، بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ یورینیم کی ضبطگی، نایاب آئسوٹوپس کی گمشدگی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سے جڑے حادثات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا اسٹریٹجک طاقت کے ساتھ حفاظتی ذمہ داریوں کا معیار بھی اسی سطح پر ہے یا نہیں۔
بھارت میں ریڈیواکٹو مواد کے غیر محفوظ ہونے کے واقعات اب صرف داخلی سلامتی تک محدود نہیں رہے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔ 2016 اور 2021 میں مختلف بھارتی ریاستوں سے یورینیم کی ضبطگی کے کیسز سامنے آئے، جن میں حکام نے غیر قانونی اسمگلنگ نیٹ ورکس کی موجودگی کو تسلیم کیا۔
یہ بھی پڑھیے کوبالٹ سے سیزیم تک: بھارت میں نیوکلیئر نگرانی کی ناکامیوں کی کہانی
اگرچہ بھارتی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ یہ یورینیم نیوکلیئر ہتھیاروں کے معیار کا نہیں تھا، تاہم ماہرین کے مطابق ایسے مواد کا غیر ریاستی عناصر تک پہنچنا بذاتِ خود ایک سنگین سیکیورٹی رسک ہے۔ اسی تناظر میں بعض نایاب آئسوٹوپس، جن میں کلیفورنیم جیسے عناصر شامل ہیں، کے لاپتہ ہونے کی رپورٹس نے کنٹرولڈ سہولیات کی سیکیورٹی پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مارچ 2022 میں BrahMos میزائل کا حادثاتی طور پر پاکستان کی جانب لانچ ہونا بھی ایک علیحدہ مگر متعلقہ واقعہ تھا، جسے بھارت نے بعد ازاں “تکنیکی اور انسانی غلطی” قرار دیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے طریقۂ کار میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جو کسی بھی نیوکلیئر صلاحیت رکھنے والے ملک کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں گینگ سے تابکاری مواد کی برآمدگی پر پاکستان کا ردعمل کیا رہا؟
یہ تمام واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسٹریٹجک صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ حفاظتی ذمہ داریوں کو بھی اسی سطح پر مضبوط اور مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔













