قومی اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی راہ میں حائل بڑی قانونی رکاوٹ دور ہو گئی ہے، کیونکہ پی ٹی آئی نے سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی جانب سے دائر کی گئی عدالتی پٹیشن واپس لے لی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد ایوانِ زیریں میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا معاملہ دوبارہ آگے بڑھنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں، جو 12 جنوری سے شروع ہوگا، قواعد کے تحت نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اہم اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی بنانے پر اتفاق
اس سے قبل عدالت میں معاملہ زیرِ سماعت ہونے کے باعث اسپیکر اس تقرری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے ایڈوائزر محمد مشتاق نے تصدیق کی ہے کہ عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد اب نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں کوئی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
ان کے مطابق بنگلہ دیش سے واپسی کے بعد آئندہ ہفتے اپوزیشن وفد کی اسپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات متوقع ہے، جس میں مطلوبہ طریقۂ کار کو آگے بڑھایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی، سینیٹ میں راجہ ناصر عباس اپوزیشن لیڈر ہوں گے، بیرسٹر گوہر کا اعلان
واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ملاقات کے دوران آگاہ کیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اس وقت خالی ہے اور ان کی جماعت نے عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست واپس لے لی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد قومی اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں حائل بڑی رکاوٹ بظاہر ختم ہوتی نطر آتی ہے، واضح رہے کہ عمر ایوب کی نااہلی کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان نے محمود خان اچکزئی کوقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کی منظوری دی تھی۔














