سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ روہڑی اسٹیشن پر سندھ کے گورنر نہال ہاشمی کے سر سے ٹوپی اتار لی گئی۔
روہڑی سٹیشن پر گورنر سندھ نہال ہاشمی کی ٹوپی اتار لی گئی۔ https://t.co/5GZOXAuEmx pic.twitter.com/1c4oIFTmr1
— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) April 23, 2026
ویڈیو کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ بعض صارفین نے اسے سیکیورٹی پر سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کی موجودگی میں دن دہاڑے گورنر سندھ کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے تو عام شہریوں کی حفاظت کا کیا حال ہوگا۔
سندھ میں کوئی محفوظ نہیں
جنت الفردوس سکھر دن دھاڑے پولیس کی بھاری نگرانی میں گورنر سندھ کی سر سے ٹوپی چوری ہو جائے تو باقی سندھ کا کیا ہوگا۔ گورنر سندھ کو پتہ ہی نہیں چلا 😂😂@majorirfanakbar @Saira_Banokhan @irumrae pic.twitter.com/0HMtLEtw6m— فراز وہاب 🇵🇸 (@FarazWaha786) April 23, 2026
شمع جونیجو نے لکھا کہ گورنر سندھ نہال ہاشمی کے سر سے بھرے مجمعے میں کسی نے سندھی ٹوپی چوری کرلی نہ گورنر کو پتہ چلا نہ ہی مجمعے میں کسی نون لیگ کے ورکر نے نوٹس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔
سکھر میں ٹوپی چوری کا واقعہ
گورنر سندھ نہال ہاشمی کے سر سے بھرے مُجمعے میں کسی نے سندھی ٹوپی اُٹھا کے چوری کرلی نہ گورنر کو پتہ چلا نہ ہی مجمعے میں کسی نون لیگ کے ورکر نے نوٹس کیا۔
پولیس نے اس چوری کا نوٹس لے لیا ہ pic.twitter.com/1XNCatmTgI— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) April 24, 2026
تاہم اس معاملے پر ریلوے کے ترجمان نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر سندھ نہال ہاشمی کا روہڑی اسٹیشن پر پرتپاک استقبال کیا گیا تھا، جہاں انہیں اجرک اور ٹوپی پہنائی گئی۔ ترجمان کے مطابق گورنر کی ٹوپی زبردستی اتارنے کا تاثر درست نہیں ہے۔
روہڑی اسٹیشن پر گورنرسندھ نہال ہاشمی کی ٹوپی سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پر ترجمان ریلوے نے وضاحت جاری کی ہے۔ ترجمان ریلوے کے مطابق گورنرسندھ نہال ہاشمی کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں اجرک اور ٹوپی پہنائی گئی تھی۔ نہال ہاشمی کی ٹوپی زبردستی اتارنے کا تاثر غلط ہے۔ گورنر… pic.twitter.com/Uj4g18pZ8J
— Times of Karachi (@TOKCityOfLights) April 24, 2026
ترجمان نے مزید کہا کہ گورنر سندھ کی اجازت سے ان کے سیکریٹری نے ٹوپی واپس اتاری تھی جبکہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے۔














