ایئر بس یا بوئنگ سے طیارے خریدنے کے معاملے پر کئی ماہ کی بحث کے بعد بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے 14 نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس منصوبے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ ایئرلائن کی جنرل منیجر (پبلک ریلیشنز) بُسرا اسلام نے جمعرات کو فیصلے کی تصدیق کی۔ یہ اقدام بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے اس پہلے سے کیے گئے عزم کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت امریکا کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے بوئنگ طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بوئنگ کو دھچکا، ایئر چائنا نے 60 ایئربس طیاروں کا انتخاب کر لیا
حکام کے مطابق بوئنگ نے 24 نومبر کو باضابطہ طور پر اپنی پیشکش جمع کرائی تھی، جس میں طیاروں کی قیمتوں اور ترسیل کے شیڈول کی تفصیلات شامل تھیں۔ بعد ازاں بورڈ نے اس پیشکش کی منظوری دے دی۔
منظور شدہ پیکیج کے تحت بِمان بنگلہ دیش 8 بوئنگ 787-10 ڈریم لائنرز، دو 787-9 ڈریم لائنرز اور چار 737-8 طیارے خریدے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس توسیع کا مقصد ملک کی فضائی صلاحیت میں اضافہ، بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنانا اور مستقبل میں مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایمریٹس نے 65 نئے بوئنگ طیارے خریدنے کا آرڈر دے دیا، کتنے ارب ڈالر کی ڈیل ہوئی؟
ایئرلائن انتظامیہ کے مطابق طیاروں کی آمد کے بعد بِمان نہ صرف اپنی کمرشل پروازوں میں اضافہ کر سکے گی بلکہ ریاستی و سرکاری فضائی خدمات کو بھی مزید وسعت دی جا سکے گی۔ حتمی معاہدہ مالی معاملات اور ریگولیٹری منظوریوں کی تکمیل کے بعد طے پائے گا، جبکہ طیاروں کی ترسیل مرحلہ وار کی جائے گی۔
دوسری جانب، صنعت سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئر بس نے بھی سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کیں، جن میں یورپی یونین کے متعدد سفیروں کی جانب سے ڈھاکا سے رابطے شامل تھے، تاہم یہ کوششیں فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔














