پاک چین آہنی دوستی نئی بلندیوں کی جانب، سی پیک کے نئے مرحلے کا آغاز

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے ورژن 2.0 کی تعمیر پر اتفاق کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے، خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ اتفاق بیجنگ میں منعقدہ چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 7ویں دور کے دوران کیا گیا، جس کی مشترکہ صدارت چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: سدا بہار اسٹریٹجک کواپریٹو پارٹنرشپ دونوں ممالک کی خوشحالی کے لیے ناگزیر، پاکستان چین کا اتفاق

دفتر خارجہ کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری 2026 تک چین کا دورہ کیا، جس کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، کان کنی، ثقافتی روابط اور عوامی تبادلوں سمیت وسیع شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔

علاقائی و عالمی امور بالخصوص جنوبی ایشیا، افغانستان، مسئلہ کشمیر، مشرق وسطیٰ اور عالمی حکمرانی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں ممالک نے 2026 میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی مناسبت سے خصوصی تقریبات منعقد کرنے کا اعلان کیا، جن کا مقصد آہنی دوستی کو مزید مضبوط بنانا اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنا ہے۔

اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات پر غیرمتزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس، اربوں ڈالرز کے کون سے 21 معاہدے ہوئے؟

پاکستان نے ایک چین پالیسی سے اپنی غیرمشروط وابستگی دہراتے ہوئے تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق چین کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی بھرپور تائید کی۔

دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنانے، چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کو محفوظ ماحول میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کو سراہا۔

سی پیک کے تحت صنعت، زراعت اور کان کنی کو ترجیحی شعبے قرار دیتے ہوئے گوادر بندرگاہ کی ترقی، قراقرم ہائی وے کی بلا تعطل بحالی، خنجراب پاس کی سال بھر آمد و رفت اور تیسرے فریق کی شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا۔

دونوں ممالک نے خلائی تعاون، بینکاری و مالیاتی شعبے، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تکنیکی تربیت میں شراکت داری بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا تائیوان سے متعلق چین کے مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعادہ

اعلامیے میں مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ غزہ میں فوری، مستقل اور غیرمشروط جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

افغانستان سے متعلق دونوں ممالک نے دہشت گرد تنظیموں کے مکمل خاتمے اور ایک جامع سیاسی نظام کے قیام پر زور دیا۔

دونوں فریقین نے اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے، کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور بالادستی و بلاک سیاست کی مخالفت کے عزم کا اظہار کیا۔

چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے 27-2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت پر بھی پاکستان کو مبارکباد دی۔

اعلامیے کے مطابق اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا اگلا دور آئندہ برس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟