ایران اس وقت دہرے بحران کا سامنا کررہا ہے جس میں داخلی بے چینی اور بیرونی فوجی خطرات شامل ہیں۔ حکومت کے خلاف احتجاج کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، اور ساتھ ہی امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ان حالات میں مغربی میڈیا نے ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا انکشاف کیا ہے، جو انتہائی حالات میں ایران سے فرار کی تیاریاں کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی حمایت ترک کرنے تک امریکا سے تعاون نہیں ہوسکتا، آیت اللہ خامنہ ای
آیت اللہ خامنہ ای کا متبادل منصوبہ
برطانوی میڈیا کے مطابق اگر ایران میں سیکیورٹی فورسز احتجاج کو قابو پانے میں ناکام ہو جائیں یا وفاداری میں تبدیلی آ جائے، تو خامنہ ای اپنے قریبی حلقے اور اہل خانہ کے ساتھ ایران چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے تہران سے نکلنے کے ممکنہ راستوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، اور انخلا کے دوران بیرون ملک جائیدادیں، اثاثے اور نقد رقم بھی جمع کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ ان حالات میں تیار کیا گیا جب ایران کی داخلی سیاست اور معیشت بحرانی صورتحال کا شکار ہیں۔
معاشی بحران اور حکومتی مشکلات
ایران کی معیشت شدید بحران میں ہے، جس میں کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی اور امریکی پابندیاں اہم عوامل ہیں۔ ان مسائل نے عوامی غصے کو ہوا دی ہے اور سکیورٹی فورسز بھی اس معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ حکام کے مطابق، بدعنوانی اور بدانتظامی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے بیانات اور بین الاقوامی خطرات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کی حمایت کی ہے اور فوجی مداخلت کی دھمکیاں دی ہیں، جب کہ اسرائیلی حکام کے بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور شام کی مثالیں ایران کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، جہاں معاشی بدحالی نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ اس تناظر میں آیت اللہ خامنہ ای کا سخت موقف اور مظاہرین کو شرپسند قرار دینا مزید بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’خواب دیکھتے رہو!‘ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا ٹرمپ کے دعوے پر دلچسپ ردعمل
ایران کا جوہری پروگرام اور حکومتی حکمت عملی
ایرانی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے پاس نہ تو بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی ہے، اور نہ ہی جوہری پروگرام پر امریکا اور اسرائیل کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی سمجھوتا سامنے آ رہا ہے۔
ایران کے سامنے نہ صرف داخلی بحران ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔














