ٹرمپ کی وارننگ کے بعد وینزویلا کی قائم مقام صدر نے مفاہمتی لہجہ اپنالیا

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی رودریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد اپنے لہجے میں نمایاں نرمی لاتے ہوئے امریکا کو تعاون کی پیشکش کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، چین اور روس کا وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ

گارجین کی رپورٹ کے مطابق ڈیلسی نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مشترکہ تعاون کے ایجنڈے پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اپنے بیان میں ڈیلسی رودریگز نے کہا کہ انہوں نے امریکی حکومت کو تعاون پر مبنی ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر میڈورو کی سابق نائب صدر نے ان کی شرائط نہ مانیں تو انہیں مادورو سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

ڈیلسی رودریگز اس وقت سے وینزویلا کے امور چلا رہی ہیں جب ہفتے کے روز سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو امریکی کارروائی میں گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا۔ دونوں کو پیر کے روز مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کردیا گیا۔

ہفتے کے روز سپریم کورٹ نے ڈیلسی رودریگز سے صدر کا حلف لیا جبکہ اگلے ہی دن وینزویلا کی مسلح افواج کی قیادت نے ان کی اتھارٹی تسلیم کر لی تاہم مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی برقرار رکھا۔

مزید پڑھیے: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ نیویارک کی عدالت میں پیش، فرد جرم عائد

مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا اب وینزویلا کو چلائے گا اور یہ کہ ڈیلسی رودریگز اسی وقت تک اقتدار میں رہیں گی جب تک وہ وہی کریں گی جو ہم چاہتے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر باقی حکام نے تعاون نہ کیا تو امریکا دوسری کارروائی بھی کر سکتا ہے۔

ابتدا میں ڈیلسی رودریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ وینزویلا کبھی دوبارہ کسی کی کالونی نہیں بنے گا تاہم اتوار کی رات پہلی کابینہ میٹنگ کے بعد انہوں نے مفاہمتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ متوازن اور باوقار تعلقات ان کی ترجیح ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ ترقی اور پائیدار امن کے لیے تعاون کریں۔

صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام اور ہمارا خطہ جنگ نہیں، امن اور مکالمہ چاہتے ہیں اور  وینزویلا کو امن، ترقی، خودمختاری اور مستقبل کا حق حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟

دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکی کارروائی کے بعد وینزویلا میں نافذ ایمرجنسی کے تحت پولیس کو ان افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے گئے ہیں جو امریکی حملے کی حمایت یا تشہیر میں ملوث پائے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار