عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی نے کتنے مواقع ضائع کیے؟ مشاہد حسین نے اندر کی بات بتادی

منگل 6 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان کی رہائی کے اہم مواقع خود گنوا دیے۔

مشاہد حسین سید کے مطابق 5 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا جن کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ 22 نومبر 2024 کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی عمل میں آئے گی۔ ان کے بقول سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی اس ڈیل کا حصہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر موجود ہاکس نے اس معاہدے کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد میں 10 لاکھ افراد کے پہنچنے کے بعد عمران خان کو بغیر کسی ڈیل کے رہا کرا لیا جائے گا جس کے باعث یہ موقع ضائع ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں عمران خان کے پوسٹر والے ٹرک پر نامعلوم افراد نے سیاہی پھینک دی

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل مئی 2022 میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف عام انتخابات کرانے پر آمادہ ہو چکے تھے لیکن پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے معاملہ خراب کر دیا تھا جس کے بعد الیکشن 8 فروری 2024 میں ہوئے۔

مشاہد حسین سید کے مطابق پی ٹی آئی کی ان حکمتِ عملی کی غلطیوں کے باعث پارٹی کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا اور دو بڑے مواقع ہاتھ سے نکل گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں