پاکستان اور امریکا کے تعلقات 2025 کے دوران ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جسے خارجہ پالیسی ماہرین محض وقتی گرمجوشی نہیں بلکہ ’pragmatic and interest-driven engagement‘ قرار دے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے معاہدے اور سیکیورٹی تعاون نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ تعلقات اب صرف سیکیورٹی یا افغانستان تک محدود نہیں رہے بلکہ جیو اکنامکس، توانائی، معدنیات اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے مرکزی حیثیت اختیار کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اصلاحات اور استحکام کے بعد پاکستان امریکا کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ابھرنے لگا
سفارتی فضا میں بہتری اور سیاسی رابطے
پاکستان کے امریکا میں سفیر رضوان سعید شیخ کے مطابق 2025 پاک امریکا تعلقات کے لیے ایک ’transformative year‘ ثابت ہوا، جس میں دونوں ممالک نے اختلافات کے بجائے مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کی۔
ان کے بقول 2026 وہ سال ہوگا جس میں گزشتہ برس طے پانے والی مفاہمتیں عملی نتائج میں ڈھلیں گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان باقاعدہ اسٹریٹجک مکالمہ بحال ہوا ہے، جس میں تجارت، توانائی، آئی ٹی، صحت اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔
چند روز قبل امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان اور خاص طور پر واشنگٹن میں اہم شخصیات نے تعلقات کو ایک بار پھر گرم جوشی کی سطح پر لایا ہے، اور ان اچھے تعلقات میں سب سے اہم عنصر صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے درمیان خوشگوار تعلقات ہیں۔
شیری رحمان نے کہاکہ یہ تعلقات اگر معاشی اور تجارتی بنیادوں پر اُستوار ہوں تو زیادہ مضبوط ہوں گے۔ پاکستان کے معدنی شعبے میں امریکی سرمایہ کاری، اس کی پائیداری اور اس سے پیدا ہونے والے ملازمتوں کے مواقع دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کو طے کریں گے۔
صدر ٹرمپ کے بیانات اور سرمایہ کاری کا زاویہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بزنس کمیونٹی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب کو سفارتی حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان محض علامتی نہیں بلکہ امریکی پالیسی میں ایک transactional yet constructive shift کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت امریکا ایسے شراکت داروں کو ترجیح دے رہا ہے جو علاقائی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع بھی فراہم کریں۔ توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں امریکی دلچسپی کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
تجارت اور جیو اکنامک شراکت داری
2025 میں طے پانے والے پاک امریکا تجارتی فریم ورک کو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات میں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد باہمی تجارت میں اضافہ، ٹیرف رکاوٹوں میں کمی اور پاکستانی برآمدات کے لیے امریکی منڈی تک بہتر رسائی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جیو اکنامک سوچ کے عملی اظہار کی مثال ہے، جہاں سفارت کاری کو براہِ راست معاشی فوائد سے جوڑا جا رہا ہے۔
خارجہ پالیسی ماہرین کی آرا
اسلام آباد میں خارجہ امور کی ممتاز تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان نے وی نیوز کے ساتھ اپنے ایک گزشتہ انٹرویو میں کہاکہ موجودہ پاک امریکا تعلقات نہ تو سرد جنگ کے ماڈل پر ہیں اور نہ ہی ’وار آن ٹیرر‘ کے فریم میں، بلکہ یہ ایک limited but focused partnership کی شکل اختیار کر رہے ہیں، جس میں دونوں فریق اپنے اپنے قومی مفادات کو واضح طور پر سامنے رکھ رہے ہیں۔
اسی طرح حالیہ تجزیاتی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا اب ایک دوسرے کو کلائنٹ پیٹرن کے بجائے issue-based partners کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو تعلقات کو زیادہ پائیدار بنا سکتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینکس سے وابستہ تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن جنوبی ایشیا میں ایسے شراکت دار چاہتا ہے جو چین، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے توازن میں عملی کردار ادا کر سکیں، اور پاکستان اس تناظر میں دوبارہ اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوبی ایشیا امور کے سینیئر ماہر مائیکل کیوگلمین کے مطابق حالیہ عرصے میں پاک امریکا تعلقات میں واضح مثبت تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ واقعی غیرمعمولی صورتحال ہے، امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، لیکن چونکہ یہ تعلقات ہمیشہ تبدیلی سے گزرے ہیں، اس لیے یہ امید رکھنا غلط نہیں کہ حالات مزید بہتر بھی ہو سکتے ہیں۔
سیکیورٹی تعاون اور علاقائی توازن
اگرچہ تعلقات کا مرکز اب معیشت بنتا جا رہا ہے، تاہم سیکیورٹی تعاون اب بھی ایک اہم ستون ہے۔ انسداد دہشتگردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور فوجی سطح پر روابط جاری ہیں۔
امریکی عسکری حکام کی جانب سے حالیہ بیانات میں پاکستان کو انسداد دہشتگردی میں ایک اہم شراکت دار قرار دیا گیا، جسے اسلام آباد میں سفارتی سطح پر مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس تعاون کو علاقائی حساسیت، خصوصاً بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں متوازن حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔
پاک امریکا تعلقات کے چیلنجز
خارجہ پالیسی ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ اگرچہ موجودہ فضا مثبت ہے، مگر پاک امریکا تعلقات اب بھی بعض ساختی مسائل کا شکار ہیں، جن میں اعتماد کا تاریخی فقدان، خطے کی غیر یقینی صورتحال اور امریکی داخلی سیاست شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان امریکا تعلقات کو پاک چین دوستی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، اسحاق ڈار
یہ شراکت داری مواقع پر مبنی ہے اور اس کی پائیداری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک طے شدہ معاشی اور سفارتی وعدوں پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر 26-2025 میں پاک امریکا تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جذباتی نعروں کے بجائے عملی مفاد، اقتصادی تعاون اور محدود مگر بامقصد شراکت داری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کاری، برآمدات اور ٹیکنالوجی تعاون کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ تعلقات نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی سطح پر بھی دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔













