سندھ حکومت نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی زیر صدارت سکھر اور لاڑکانہ رینجز میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب سمیت متعلقہ اضلاع کے ایس ایس پیز نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: ‘سرنڈر کریں یا انجام کو پہنچیں،’ وزیر داخلہ سندھ کا کچے کے ڈاکوؤں کو آخری انتباہ
اس موقع پر آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی نے جرائم کے خلاف جاری پولیس اقدامات، آپریشنل پیش رفت اور حاصل کردہ کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچہ اور پکا ایریاز دونوں میں پولیس دستے مکمل طور پر متحرک اور مستعد ہیں، ڈاکوؤں کی کمین گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے سہولتکاروں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔
’جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کا مؤثر تعاقب کیا جا رہا ہے اور کچہ کے علاقوں میں پولیس کی مستقل موجودگی سے جرائم کی بیخ کنی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔‘
وزیر داخلہ نے کہاکہ آپریشن کے دوران غلطیاں ہو جاتی ہیں اور اگر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو حکومت سندھ پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیر داخلہ نے پولیس کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیدیا
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو تسلی بخش اور قابلِ تحسین قرار دیا اور ہدایت کی کہ کچہ اور پکا ایریاز میں جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ گھوٹکی سے ڈاکوؤں کے خلاف شروع کیے جانے والے میگا آپریشن کے لیے درکار لاجسٹک سپورٹ، جدید ڈرون، اسلحہ، گولہ بارود اور گاڑیوں سے متعلق سفارشات فوری طور پر ارسال کی جائیں جنہیں بلا تاخیر منظور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ آپریشن کی ضروریات اور وسائل وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لہٰذا متعلقہ ادارے بروقت آگاہ رکھیں تاکہ میگا آپریشن کسی بھی مرحلے پر متاثر نہ ہو اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں۔ وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میگا آپریشن کو وہ خود لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کریں گے۔
آپریشن کی کامیابی کے لیے آئی جی سندھ کو اہم ہدایات جاری
اجلاس کے دوران وزیر داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایت دی کہ وہ بذات خود آئی جی پنجاب اور آر پی او بہاولپور سے رابطہ کریں اور انہیں اعتماد میں لے کر مشترکہ میگا آپریشن کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہاکہ سندھ اور پنجاب پولیس کے باہمی تعاون سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور آئندہ بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری رہیں گے۔
اس موقع پر آئی جی سندھ نے ہدایت دی کہ میگا آپریشن کے لیے درکار وسائل سے متعلق سفارشات جلد ارسال کی جائیں تاکہ حکومت سندھ کی جانب سے مکمل سپورٹ فراہم کی جا سکے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سکھر اور لاڑکانہ رینج کے حکام سے تفصیلی ملاقات اور میٹنگ ہوئی ہے اور آج کے بعد سکھر اور کشمور کے اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
سندھ سے اغوا ہونے والے افراد کو پنجاب سے بازیاب کرایا گیا، وزیر داخلہ
انہوں نے بتایا کہ سندھ سے اغوا ہونے والے افراد کو پنجاب سے بازیاب کرایا گیا جس میں رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کا بھرپور تعاون حاصل رہا، جس پر پنجاب حکومت کے شکر گزار ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیاکہ نامی گرامی ڈاکو ہوں یا کوئی بھی مجرم، قانون سب کے لیے برابر ہے اور سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا اور سندھ پولیس اس صلاحیت کی حامل ہے کہ حالات پر مکمل کنٹرول رکھ سکے، فوج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
مزید پڑھیں: سندھ: کچے کے ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے سے پائیدار امن قائم ہو پائے گا؟
انہوں نے کہاکہ ڈاکوؤں کو آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو جائیں، بصورت دیگر ریاستی قوت کے ذریعے ان کا قلع قمع کیا جائے گا۔
آخر میں وزیر داخلہ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔













