سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اہم عالمی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے خود کو اس میدان کے نمایاں ممالک میں شامل کر لیا ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اے آئی انڈیکس رپورٹ 2026 کے مطابق مملکت نے کئی اہم اشاریوں میں اعلیٰ عالمی درجہ بندی حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا ورچوئل اسکول قائم، اے آئی ٹیچر متعارف
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب مصنوعی ذہانت میں سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کے شعبے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ خواتین کو اے آئی کے میدان میں بااختیار بنانے میں بھی عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی شرح کے لحاظ سے مملکت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
اسی طرح اے آئی ٹولز کے استعمال کرنے والے صارفین کے تناسب میں بھی سعودی عرب نے عالمی سطح پر تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مہارت رکھنے والی افرادی قوت کو راغب کرنے میں چوتھا نمبر حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی وزیرِ مواصلات کی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو سے ملاقات، ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اعداد وشمار کے مطابق 2019 سے 2025 کے درمیان سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تقریباً 80 فیصد ملازمین اپنی عملی زندگی میں اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ سعودی عرب وژن 2030 کے تحت ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اور مصنوعی ذہانت کو اپنی اقتصادی و ترقیاتی حکمت عملی کا مرکزی جزو بنا چکا ہے۔














