وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں برآمدات کے فروغ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں جولائی تا دسمبر 2025 کے تجارتی اعداد و شمار پیش کیے گئے اور برآمدات میں اضافے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہاکہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے اور برآمدات خصوصاً زرعی مصنوعات میں اضافہ اور تجارتی خسارے میں کمی کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی معیشت اہم موڑ پر پہنچ چکی، ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں، وزیر خزانہ
انہوں نے ہدایت کی کہ چاول کی برآمدات بڑھانے کے لیے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائے۔
اجلاس میں برآمدات بڑھانے اور ایکسپورٹرز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
وزیراعظم نے واضح کیاکہ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی قبول نہیں ہوگی۔
اس موقع پر اجلاس کو ہائی ویلیو سیکٹرز جیسے انجینئرنگ، ادویات، میڈیکل ڈیوائسز اور پراسیسڈ فوڈ کی برآمدات بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی برآمدات کو گلوبل ویلیو چین کا حصہ بنانے اور پورٹس و لاجسٹکس کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ چاول کی برآمدات کے سلسلے میں مختلف ممالک کے ساتھ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدوں پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا ہدف معیشت کی ترقی، برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے، وزیراعظم
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک م جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔













