پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے تنظیم کالعدم ٹی ٹی پی کو دہشتگرد قرار دینے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں اختلاف سامنے آیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو براہِ راست دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے گریز کیا ہے، جبکہ سلمان اکرم راجا نے دوٹوک الفاظ میں ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم کہنے سے گریز کیوں کر رہے ہیں؟ pic.twitter.com/Z5FghSdJvc
— Osama Yawar (@osamayawark) January 7, 2026
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران ان سے اس حوالے سے متعدد بار سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار نہیں کیا۔ شفیع جان کا کہنا تھا کہ وہ کسی پر براہِ راست الزام عائد نہیں کر سکتے۔
ان کے مطابق جو بھی عناصر ریاست کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہوں، چاہے ان کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہو یا کسی اور گروہ سے، وہ دہشتگرد کہلائیں گے۔
تاہم پروگرام کے دوران مسلسل سوالات کے باوجود معاون خصوصی برائے اطلاعات نے کالعدم ٹی ٹی پی کو کھلے الفاظ میں دہشتگرد تنظیم قرار دینے سے احتراز کیا، جس پر ان کے مؤقف پر بحث بھی دیکھنے میں آئی۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان اور ٹی ٹی پی بھارت سے ملے ہیں، کے پی حکومت کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، خواجہ آصف کا انکشاف
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے دوٹوک الفاظ میں ایک ٹی وی پروگرام میں ٹی ٹی پی کو دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہاکہ افغان طالبان ان عناصر کی پشت پناہی کررہے ہیں۔













