گرین لینڈ کی برفانی سرزمین کے نیچے چھپے قدرتی وسائل ایک صدی سے زائد عرصے سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں، اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دلچسپی نے اس معاملے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور یہ ڈنمارک کا ایک نیم خودمختار خطہ ہے۔ اگرچہ یہ جزیرہ بے حد وسیع اور معدنی دولت سے مالا مال ہے، لیکن ان وسائل تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی حملے کی صورت میں کیا کریں؟ یورپی ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے
ماہرین کے مطابق گرین لینڈ میں نایاب معدنیات، اہم دھاتیں اور ممکنہ تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو گرین انرجی ٹیکنالوجی کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم سخت موسمی حالات، بنیادی ڈھانچے کی کمی، سڑکوں اور ریلوے کا نہ ہونا، اور ماحولیات سے متعلق خدشات کان کنی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
گرین لینڈ میں پائے جانے والے نایاب ارضی عناصر (ریئر ارتھ ایلیمنٹس) میں نیوڈیم، ڈسپروسیئم اور ٹیربیئم شامل ہیں، جو ونڈ ٹربائنز، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں، موبائل فونز اور دفاعی ٹیکنالوجی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں زنک، نکل، تانبا، سونا اور لوہے کے ذخائر بھی موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت
تاریخ میں کئی بار امریکا نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی کوشش کی، جن میں 1946 میں سونے کے بدلے خریدنے کی پیشکش اور 2019 میں ٹرمپ کی جانب سے خریداری کی تجویز شامل ہے، جسے ڈنمارک نے مسترد کر دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو ضم کرنے کے بیانات پر یورپی اتحادیوں نے سخت ردعمل دیا ہے، حتیٰ کہ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوال اٹھا دیا۔
ماضی میں کان کنی کے منصوبوں سے ماحول کو شدید نقصان پہنچا، جس کے اثرات آج بھی مقامی آبادی، ماہی گیری اور جنگلی حیات پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے یورینیم سے متعلق سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔














