بنگلہ دیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر خلیل الرحمان نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گرئیر سے واشنگٹن میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت، ٹریف، اور مارکیٹ تک رسائی سمیت اہم تجارتی امور پر بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے انتخابات پر یورپی یونین کی کڑی نظر، 200 مبصرین تعینات
ڈاکٹر خلیل الرحمان نے امریکی نمائندے کو بتایا کہ بنگلہ دیش نے حال ہی میں امریکا کے ساتھ تجارتی خلا کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں امریکی درآمدات میں اضافہ اور متوقع باہمی تجارتی معاہدے کے کلیدی نکات پر عمل درآمد شامل ہے، حالانکہ یہ معاہدہ ابھی رسمی طور پر نافذ نہیں ہوا۔
ملاقات کے دوران ڈاکٹر خلیل الرحمان نے امریکی تجارتی نمائندے سے موجودہ 20 فیصد باہمی ٹریف میں کمی کی درخواست کی۔ امبیسیڈر گرئیر نے مثبت غور کرنے کا وعدہ کیا اور یقین دلایا کہ امریکا امریکی مواد سے تیار کردہ کپڑوں پر ٹریف کم یا ختم کرنے کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔

دونوں فریقین نے چند باقی مسائل کو جلد حل کرنے اور باہمی ٹریف معاہدے کو تاخیر کے بغیر نافذ کرنے پر اتفاق کیا۔ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی تجارتی مقدار آئندہ دنوں میں کاروباری تعلقات کو مزید فروغ دے گی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نے بھارت میں ویزا سروسز عارضی طور پر معطل کردیں
ڈاکٹر خلیل الرحمان نے امریکی نمائندے سے بنگلہ دیشی شہریوں کے کاروباری سفر میں آسانی اور نجی شعبے کے لیے امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی ادارے (DFC) سے مالی وسائل تک رسائی میں توسیع کی درخواست بھی کی۔ امبیسیڈر گرئیر نے اس سلسلے میں تعاون کا یقین دلایا۔
ڈاکٹر خلیل الرحمان کے ساتھ بنگلہ دیش کے امریکی سفیر طارق محمد عارف الاسلام بھی موجود تھے، جبکہ امریکی جانب سے اسسٹنٹ USTR برینڈن لنچ اور دیگر اعلیٰ اہلکار موجود تھے۔ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن جمعہ کو امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔













