معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کے اہلخانہ سے کیس میں نرمی اور ڈکی بھائی کی ضمانت کے لیے مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت وصول کرنیوالے مرکزی ملزم این سی سی آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری سے ایک کروڑ 12 لاکھ روپے ریکور کر لیے گئے ہیں۔
دوسری جانب دیگر 7 ملزمان سے مجموعی طور پر 4 کروڑ 25 لاکھ روپے ریکور کر لیے گئے ہیں، ملزمان اور اہلخانہ کے اثاثوں کی جانچ پڑتال سمیت کیس کی مزید تفتیش ابھی جاری ہے۔
ایف ائی اے اینٹی کرپشن سرکل کے مطابق این سی سی آئی اے افسران کے خلاف رشوت لینے کے الزامات پر تفتیش کے دوران اب تک این سی سی آئی اے لاہور کے مختلف افسران سے 4 کروڑ روپے سے زائد ریکور ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے
ڈپٹی ڈائریکٹر زوار احمد سے 99 لاکھ، 90 ہزار، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان سے 50 لاکھ 15 ہزار اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض سے 90 لاکھ روپے برآمد کیے جاچکے ہیں۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر مجتبیٰ ظفر سے 36 لاکھ، سب انسپکٹر یاسر رمضان سے 19 لاکھ 48 ہزار سب انسپکٹر علی رضا سے 7 لاکھ اور پرائیوٹ شخصیت سلمان عزیز سے 10 لاکھ روپے تک کی ریکوری ہوئی ہے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید زین العابدین کی سربراہی میں 5 رکنی انویسٹیگیشن ٹیم این سی سی آئی اے کے افسران کیخلاف تحقیقات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: رہائی کے بعد یوٹیوبر ڈکی بھائی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ، وجہ کیا بنی؟
ان ملزمان کے اثاثوں کی جانچ کی جا رہی ہے اور ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد سے ملزمان اور ان کے اہلخانہ کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
این سی سی آئی اے راولپنڈی کے اہلکاروں پر بھی الزام ہے کہ وہ کال سینٹرز سے ماہانہ کروڑوں روپے کی رشوت وصول کرتے تھے۔
این سی سی آئی اے راولپنڈی کے بڑے اسکینڈل میں این سی سی آئی اے کے اہلکاروں پر راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر سے ماہانہ ڈیڑھ کروڑ روپے وصول کرنے کا الزام ہے اور ایف ائی اے کے مطابق 30 کروڑ روپے کی رشوت دی گئی ہے۔
مگر اب تک صرف ایک سب انسپکٹر این سی سی آئی اے راولپنڈی صارم علی سے 15 لاکھ روپے کی ریکوری ہو سکی ہے۔
مزید پڑھیں: ’اپنے 7 سالہ بیٹے سے مجھے گالیاں دلوائیں‘، ڈکی بھائی نے تفتیشی افسر سرفراز چوہدری سے متعلق مزید کیا بتایا؟
اس کیس میں 13 ملزمان نامزد ہیں جن میں 10 این سی سی آئی اے کے افسران، ایک چائنیز شہری اور 2 پاکستانی فرنٹ مین بھی شامل ہیں۔
اس کیس کے ایک ملزم اینٹی بلاسفیمی یونٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان اعوان بھی ہیں، جو اس وقت ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ملزمان کے اثاثوں کی جانچ اور بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کے لیے مختلف محکموں کو خطوط لکھ دیے گئے ہیں، جبکہ فورینزک رپورٹ کے لیے ملزمان کے موبائل فونز نیشنل فورینزک ایجنسی کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔













