ڈاکٹر مصدق ملک کا جنگلات کٹائی کے مقامات کا دورہ، ’درخت کاٹنے کے جرمانے میں اضافہ ہو گا‘

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے منگل کے روز اسلام آباد کے شکرپڑیاں جنگل میں ان مقامات کا دورہ کیا جہاں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بڑی تعداد میں درخت کاٹے تھے اور جس پر عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا۔

اس موقعے پر وزارت موسمیاتی تبدیلی اور سی ڈی اے حکام نے ان کو تفصیلی بریفنگ دی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ان کو بتایا گیا تھا کہ جنگل سے صرف پیپر ملبری (پولن الرجی پھیلانے والا کاغذی توت) کے درختوں کو باقاعدہ نشاندہی کے بعد کاٹا گیا تھا اور وہ آج یہاں دیکھنے آئے ہیں کہ کیا واقعی یہ بات درست ہے کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں واقعی درمیان میں چیدہ چیدہ کچھ درخت نظر آ رہے ہیں جو نہیں کاٹے گئے کیونکہ وہ نقصان دہ نہیں تھے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ محکمے سے 2 اقسام کے کاغذات مانگے ہیں۔

مزید پڑھیے: درختوں کی کٹائی نہیں، منظم شجرکاری ہو رہی ہے، طلال چوہدری کا قومی اسمبلی میں بیان

انہوں نے کہا کہ ایک یہ کہ پیپر ملبری کے درختوں سے الرجی اور بیماریوں کے حوالے سے جو دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے 30 سے 37 فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں اس کا ڈیٹا فراہم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیٹا جلد موصول ہو جائے گا اور اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر 3 مختلف ممالک میں ہونے والی تحقیق (اسٹڈیز) بھی مانگی گئی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ پیپر ملبری کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی موجود ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ شکرپڑیاں میں تقریباً 3400 ایکڑ پر مشتمل جنگلاتی رقبہ ہے جس میں سے تقریباً 27 ایکڑ پر کٹائی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں تقریباً ایک ہزار مقامی درخت بچائے گئے ہیں گو میں ذاتی طور پر ان کو گن نہیں رہا لیکن میری خواہش ہے کہ ای پی اے بعد میں ان کی تصدیق کرے اور باقاعدہ گنتی بھی کرے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سوشل میڈیا کی غلط مہم، سی ڈی اے نے مؤقف واضح کر دیا

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ کیا اس کٹائی سے پہلے عوامی سماعت ہوئی یا نہیں، مجھے بتایا گیا ہے کہ ایف 9 پارک کے مرکز میں عوامی سماعت کی گئی تھی جس میں اس وقت کی ای پی اے (ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ) چیئرپرسن اور محکمہ صحت کے نمائندے بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی کارروائی اور منٹس میں نے منگوا لیے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ سماعت صرف ایف 9 پارک کے لیے تھی یا دیگر علاقوں کے لیے بھی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ای پی اے کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی جس کے لیے ای پی اے کی اجازت حاصل نہ کی گئی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور جہاں ضروری تھا وہاں کارروائی بھی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ درخت کاٹنا یا لگانا سی ڈی اے کی ذمہ داری ہے جبکہ ہماری ذمہ داری ماحولیاتی تحفظ، اجازت ناموں کی جانچ اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے بھی بغیر اجازت درخت کاٹنے پر کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ’یہ اسلام آباد کو اجاڑ کر رہیں گے‘، درختوں کی کٹائی پر محسن نقوی اور چیئرمین سی ڈی اے تنقید کی زد میں

ان کا کہنا تھا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے ہے جو آج کے حالات میں ناکافی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی کروڑوں روپوں کے جنگلات کا نقصان کرے اور صرف 10 لاکھ جرمانہ دے کر بچ جائے تو یہ انصاف نہیں اس لیے میں قانون میں ترمیم پیش کر رہا ہوں تاکہ جرمانہ نقصان کے تناسب سے ہو اور آئندہ کوئی بھی اس طرح ماحولیاتی تباہی کا سوچ بھی نہ سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp