وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں فائر وال اور پیکا ون، پیکا ٹو سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کسی بھی صورت اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ سائبر دنیا میں بڑھتے جرائم اور غیر منظم سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فائر وال فعال: ملک میں انٹرنیٹ اور وی پی این میں خلل
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ فائر وال کو کسی غلط نیت یا سیاسی مقصد کے تحت متعارف نہیں کرایا جا رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کی جدید دنیا میں آئی ٹی، کمیونیکیشن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکے ہیں، اسی لیے ان کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے ریگولیٹری نظام ناگزیر ہو چکا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ فائر وال کا سائبر کرائم کے ساتھ براہِ راست کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ کسی مخصوص وزارت یا ادارے کے خلاف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا قیام بھی اسی ضرورت کے تحت عمل میں لایا گیا، کیونکہ پاکستان میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط ادارے کی اشد ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ پیکا ون اور پیکا ٹو پر بلاوجہ تنقید کی گئی، حالانکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پہلے ریگولیشنز بنتے ہیں اور اس کے بعد آپریٹرز کام شروع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں الٹا ہوا، یعنی آپریشنز پہلے شروع ہو گئے اور قوانین بعد میں بنائے گئے۔ ان کے مطابق اگر یہ ریگولیشنز اور ادارے پہلے قائم ہو جاتے تو آج بہت سے مسائل جنم نہ لیتے۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کئی معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ فائر وال یا پیکا قوانین کسی خاص مقصد کے لیے لائے جا رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں جہاں زیادہ تر سرگرمیاں اور جرائم سائبر اسپیس میں منتقل ہو چکے ہیں، وہاں ان قوانین کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ ایک سال کے دوران این سی سی آئی اے کی صلاحیت کو دوگنا سے بھی زیادہ بڑھائے گی تاکہ سائبر جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ اگر ایوان چاہے تو وہ این سی سی آئی اے کی تشکیل، اس کے دائرہ کار اور استعداد کار پر مکمل بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں۔












