وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان 2025 محض ایک پروجیکٹ نہیں بلکہ ایک مکمل وژن ہے، جس کے تحت حکومت پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار قوم میں تبدیل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ اس وژن کے تحت شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل شناختیں، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور آسان آن لائن سروسز فراہم کی جائیں گی، جبکہ ڈیٹا پرائیویسی اور جدت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
خرم شہزاد نے یہ بات فِن ٹیک فارورڈ فورم میں 27ویں ITCN ایشیا کے موقع پر ایکسپو سینٹر لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے 99 فیصد سرکاری فائلز اس وقت ای-آفس پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر منتقل کی جا رہی ہیں، جس سے ڈیٹا کے ضائع ہونے یا فیصلوں میں تاخیر کے مسائل ختم ہو گئے ہیں، اور ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: سمندر پار پاکستانیوں نے پروپیگنڈے کو مسترد کرکے ریکارڈ ترسیلات زر بھیجیں، وزیراعظم کا اظہار تشکر
مشیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد 120 ملین بینک اکاؤنٹس قائم کرنا اور تمام G2G لین دین کو 100 فیصد ڈیجیٹل کرنا ہے، جبکہ سال 2026 کے دوران پورے سرکاری نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ PVARA کے ذریعے کرپٹو ہولڈرز کو رسمی ڈیجیٹل معیشت میں شامل کیا جا سکے گا اور ٹیکس مراعات پر بھی کام جاری ہے۔
خورم شہزاد نے بتایا کہ صنعتی پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دینے کی منصوبہ بندی ہے، جبکہ چھوٹے قرضےSMEs، زراعت اور نوجوانوں کے کاروبار کے لیے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ اس کے علاوہ ہنر مند افراد کے لیے اسکل بانڈز بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے حکومت کی ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا بنیادی کردار جدت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے معاون پالیسی فریم ورک تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید مالیاتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں بااختیار بنانے کے لیے فعال پالیسی سازی جاری ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں سال کے آخری ہفتے کا شاندار آغاز، انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
خرم شہزاد نے بتایا کہ کرپٹو اثاثوں کو منظم کرنے کے لیے ایک ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان اس شعبے میں ابتدائی مراحل میں ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر نظام موجود ہے، اور پاکستان بھی عالمی بہترین عملی نمونوں سے سیکھتے ہوئے احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔













