پارکنسنز کی بیماری کی ابتدائی نشانیاں، جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پارکنسنز ایک طویل المدت بیماری ہے جو دماغ کو متاثر کرتی ہے اور آہستہ آہستہ جسمانی حرکت میں مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس بیماری کی ابتدائی علامات اکثر اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ بروقت پہچان سے علاج اور روزمرہ زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر فرد میں اس بیماری کی ابتدائی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر چند عام نشانیاں ایسی ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شوگر کے مریض خنزیر کے اجزا والی انسولین سے اجتناب کریں، اسلامی نظریاتی کونسل

پارکنسنز کی ایک ابتدائی اور عام علامت ہاتھوں یا انگلیوں میں ہلکا سا کپکپانا ہے، جو عموماً اس وقت ہوتا ہے جب ہاتھ آرام کی حالت میں ہو۔ بعض اوقات یہ ایسے لگتا ہے جیسے انگلیوں کے درمیان کوئی چھوٹی چیز گھمائی جا رہی ہو۔ یہی علامت اکثر لوگوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے پر مجبور کرتی ہے۔

ایک اور اہم علامت جسمانی حرکات کا سست ہو جانا ہے۔ روزمرہ کے کام جیسے کپڑے کے بٹن لگانا، چلنا یا دانت صاف کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ وقت لینے لگتا ہے یا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ چہرے کے تاثرات میں کمی آنا بھی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، بعض افراد کم پلکیں جھپکتے ہیں یا چہرے پر جذبات کم ظاہر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بچپن میں چینی کا محدود استعمال دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرتا ہے، تحقیق

پٹھوں میں اکڑاؤ بھی پارکنسنز کی ایک عام ابتدائی نشانی ہے۔ بازو یا ٹانگیں سخت محسوس ہو سکتی ہیں، جس سے چلنے پھرنے میں دشواری اور بعض اوقات درد بھی ہوتا ہے۔ کئی بار یہ اکڑاؤ خود مریض کو محسوس نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے لوگ حرکت دینے پر اسے نوٹ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ جسم کا جھکاؤ بدل جانا، توازن کا کمزور ہونا اور بار بار لڑکھڑانا بھی ابتدائی علامات میں شامل ہیں۔ کچھ افراد غیر محسوس طور پر خودکار حرکات کم کر دیتے ہیں، جیسے چلتے وقت بازوؤں کا کم ہلنا یا مسکرانے میں کمی آنا۔

پارکنسنز کی بعض علامات کا تعلق حرکت سے نہیں ہوتا، جیسے بولنے کے انداز میں تبدیلی، آواز کا آہستہ ہو جانا، لکھائی کا چھوٹا ہو جانا یا نیند میں خلل۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ علامات اکٹھی نظر آنے لگیں تو انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بروقت نیورولوجسٹ سے رجوع کرنے سے بیماری کی جلد تشخیص ممکن ہو سکتی ہے، جس سے علاج اور دیکھ بھال میں مدد ملتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے