وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری سیکیورٹی کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی حکومتوں کی مکمل معاونت اور مشاورت سے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا میں ہونے والے حالیہ آپریشنز میں بھی صوبائی حکومت پوری طرح آن بورڈ ہے اور متاثرہ علاقوں کے لیے مالی پیکج کی منظوری دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں کوئی کچے یا پکے کا ڈاکو نہیں، طلال چوہدری کا مخالفین پر وار
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں جو بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں، جو ابتدا میں 2014-15 میں بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو تشکیل دیا گیا، جس پر تمام صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں متفق ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد آج بھی صوبائی حکومتوں کی معاونت اور باہمی مشاورت کے ساتھ جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کی تعداد میں کیے جاتے ہیں، جو صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ہوتے ہیں۔ طلال چوہدری کے مطابق جن کارروائیوں کا ذکر حال ہی میں کیا گیا، وہ اس وقت خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا کے علاقوں میں جاری ہیں، جن میں صوبائی حکومت مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فائر وال اور پیکا قوانین کا مقصد اظہارِ رائے روکنا نہیں، وزیر مملکت طلال چوہدری
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ جن علاقوں میں آپریشنز ہو رہے ہیں وہاں کے عوام کے لیے ریلیف اور بحالی پیکج کے تحت صوبائی حکومت نے صوبائی کابینہ سے منظوری لے کر 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا کو مجموعی طور پر 5867 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔











