پاکستان بندرگاہوں اور بحری شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ سیٹلائٹ امیجری، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ماڈلنگ بندرگاہوں کے نئے مقامات کی نشاندہی، بحری ٹریفک کی نگرانی، کارگو کلیئرنس میں تاخیر کم کرنے، تیل کے رساؤ کی بروقت نشاندہی اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کو مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر بحری امور نے کراچی میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کردیا
اس اقدام کا مقصد تجارتی سرگرمیوں میں بہتری، بحری تحفظ کو مضبوط بنانا اور ماحولیاتی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے، تاکہ پاکستان خود کو خطے میں ایک اہم ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر منوا سکے۔

یہ منصوبہ حکومتِ پاکستان کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع بندرگاہوں کو جدید بنایا جا رہا ہے، درآمد و برآمد کے عمل کو تیز اور شفاف بنایا جائے گا اور وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو سمندری راستوں سے جوڑنے کے لیے پاکستان کو ایک مرکزی گیٹ وے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر بحری امور نے کراچی میں فیری ٹرمینل کا افتتاح کردیا
حکام کے مطابق اس منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے سمندر کی سطح میں اضافے، ساحلی کٹاؤ، شدید موسمی حالات، ساحلی ماحولیاتی نظام، پانی کے معیار اور تلچھٹ کی حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا سکے گی، جس سے شواہد پر مبنی پالیسی سازی ممکن ہو گی اور ساحلی آبادیوں و بنیادی ڈھانچے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔
وزارتِ بحری امور اور سپارکو کے درمیان تعاون کو باقاعدہ اور مؤثر بنانے کے لیے ایک منظم فریم ورک تشکیل دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خلائی اور اے آئی پر مبنی بندرگاہی نگرانی کے اس اقدام سے کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت بہتر ہو گی، تاخیر میں کمی آئے گی، بحری سلامتی مضبوط ہو گی اور علاقائی تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے پاکستان کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ متوقع ہے۔














