خیبر پختونخوا حکومت کا بچوں کی کردار سازی کے لیے کریکٹر ایجوکیشن کے نئے نصاب کا باضابطہ اجرا

جمعہ 23 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں اخلاقیات اور کریکٹر ایجوکیشن کے نئے نصاب کا باضابطہ اجراء کر دیا ہے۔ اس نصاب کے ذریعے بچوں کو اسلامی، پختون اور علاقائی روایات کے ساتھ ساتھ شہری ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ انٹرنیٹ اور جدید دور میں اپنی اقدار، کلچر اور روایات کا تحفظ ناگزیر ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ آنے والی نسلیں اپنی شناخت اور اقدار بھول جائیں۔ یکم مارچ سے ضلع لوئر چترال کے پرائمری سکولوں میں نئے کریکولم کا آغاز ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: تولیدی صحت کی تعلیم نصاب میں شامل کی جائے گی، پاکستان سینیٹ نے بل پاس کرلیا

کریکٹر ایجوکیشن نصاب میں اسوہ حسنہ، مقامی ثقافت، معاشرتی، نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آئندہ مرحلے میں اس نصاب کو صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی توسیع دی جائے گی اور یہ سرکاری، نجی سکولوں اور مدارس میں بھی پڑھایا جائے گا۔ نصاب پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کے لیے ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکولوں میں اخلاقیات کا سلیبس متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت اور سنت میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اخلاقیات کے بعد جلد سکولوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) بھی پڑھائی جائے گی تاکہ اسلامی اقدار کے ساتھ جدید سائنسی علوم کو بھی فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی حکومت نے ’اے آئی‘ کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات شروع کردیے

وزیراعلیٰ نے علامہ اقبالؒ کے پیغام خودی کو آج بھی رہنمائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی قومی خودداری کو فروغ دینا ضروری ہے۔ کریکٹر ایجوکیشن نصاب میں خودی کا موضوع بھی شامل کیا جائے گا تاکہ قوم کو تعلیم اور کردار سازی کے ذریعے خوددار بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے نکل چکی ہے، لیکن ہمارا بچہ آج بھی امن کا متلاشی ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو مذہبی، سائنسی اور اخلاقی تعلیم فراہم کرے۔ خیبر پختونخوا کے بچوں کو بندوق نہیں، بلکہ قلم اور تعلیم دینی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نصاب یکجا کرکے ایم ڈی کیٹ پیپر بنایا ہے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ 25 سالوں میں صوبے نے دہشت گردی اور تشدد کا سامنا کیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ بچوں کو علم، تعلیم اور ترقی کا راستہ دکھایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ بند کمروں میں بننے والے فیصلے ہمیشہ ملک اور قوم کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور اجتماعی دانش اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر بنائی گئی پالیسی زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے معاشی بحران اور جی ڈی پی گروتھ میں کمی کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور اس بحران سے نکلنے کے لیے بچوں کو تعلیم اور کردار سازی کی طرف توجہ دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp