بوگورا (بنگلہ دیش) میں 10 جماعتی انتخابی اتحاد کے زیرِ اہتمام منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے حکمرانی اور ترقی سے متعلق متعدد وعدوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار ملنے کی صورت میں بوگورا کو سٹی کارپوریشن کا درجہ دیا جائے گا اور ضلع میں سرکاری یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔
আজ ২৪ জানুয়ারি (শনিবার) সকাল ১১.০০টায় গাইবান্ধায় বিশাল নির্বাচনী জনসভায় সম্মানিত আমীরে জামায়াত উপস্থিত থেকে প্রার্থীদের হাতে দাঁড়িপাল্লা প্রতিক তুলে দেন এবং প্রধান অতিথি হিসেবে বক্তব্য প্রদান করেন।#চলো_একসাথে_গড়ি_বাংলাদেশ#চলোএকসাথেগড়িবাংলাদেশ#VoteforDaripalla… pic.twitter.com/FRtjgljBXs
— Bangladesh Jamaat-e-Islami (@BJI_Official) January 24, 2026
بوگورا میں ہفتے کی دوپہر ہونے والے جلسے میں ڈاکٹر شفیق الرحمان نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد اقتدار میں آ کر ملک کو بدعنوانی اور غیرقانونی وصولیوں سے پاک بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گا اور ’چندہ بازوں سے پاک بنگلہ دیش‘ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے علاقائی انفراسٹرکچر کی ضرورتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گائیباندھا اور بوگورا کے عوام کی توقعات کے مطابق دوسرے جمنا پل کی تعمیر کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے وفد کی چیف ایڈوائزر سے ملاقات، آئندہ انتخابات پر گفتگو
جماعتِ اسلامی کے امیر نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے میں تقریباً 28.5 لاکھ کروڑ ٹکا بیرونِ ملک منتقل کیے گئے۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر لانڈر کی گئی رقوم واپس لا کر ترقیاتی شعبوں میں لگائی جائیں گی۔
ওসমান হাদীর গুলিবিদ্ধ হওয়ার ঘটনা প্রমাণ করে যে, সমাজের চিহ্নিত সন্ত্রাসীদের হাতে বিপুল পরিমাণ অস্ত্র রয়েছে।
সুষ্ঠু নির্বাচনের স্বার্থে অবৈধ অস্ত্র উদ্ধার ও সন্ত্রাসীদের পাকড়াও করা নির্বাচন কমিশনের প্রধানতম দায়িত্ব। যদি এই কাজে কোনো ধরনের শিথিলতা প্রদর্শিত হয়, তাহলে সুষ্ঠু… pic.twitter.com/ydiGpypTA6
— Dr. Shafiqur Rahman (@Drsr_Official) December 12, 2025
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ایسا نظام متعارف کرایا جائے گا جس میں قومی وسائل کی چوری ممکن نہ رہے اور ریاستی رقوم صرف ریاستی مقاصد پر خرچ ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعتِ اسلامی کے رہنما اور کارکنان بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے اور ٹینڈر میں بدعنوانی میں ملوث نہیں، اور ’صاف ہاتھوں‘ سے اپنے وعدے پورے کیے جائیں گے۔
انہوں نے خواتین کے تحفظ اور وقار کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماؤں اور بہنوں کے لیے ایک محفوظ بنگلہ دیش کی تشکیل اتحاد کے منشور کا حصہ ہے۔













