آئی سی سی نے کہا ہے کہ اس معاملے پر تین ہفتوں سے زیادہ عرصے تک تفصیلی گفتگو کی گئی، بی سی بی کے ساتھ رابطے قائم رکھے گئے اور ان کے خدشات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا گیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے مطابق بی سی بی کے ساتھ تمام امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور انہیں مکمل یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم آئی سی سی نے مؤقف اختیار کیاکہ اب چونکہ ٹورنامنٹ شروع ہونے میں کم وقت رہ گیا ہے اس لیے یہ فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔
سیکیورٹی کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے 3 جنوری کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت کی کہ وہ 2026 آئی پی ایل اسکواڈ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مصطفیٰ ظہور کو باہر کر دیں۔
اگرچہ اس ہدایت کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی، تاہم یہ فیصلہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان بگڑتے تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا۔ 4 جنوری کو بی سی بی نے حکومتی مشاورت کے بعد آئی سی سی کو خط لکھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیشی ٹیم اپنے ٹی20 ورلڈ کپ میچز کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی، اور بعد کی متعدد بات چیت میں بھی اسی مؤقف پر قائم رہی۔
تاہم آئی سی سی نے مصطفیٰ ظہور کے معاملے کو جائز سیکیورٹی خدشہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ بی سی بی بار بار ٹورنامنٹ میں شرکت کو ایک واحد، الگ تھلگ اور غیر متعلقہ واقعے سے جوڑ رہا ہے، جو اس کے ایک کھلاڑی کی ڈومیسٹک لیگ میں شمولیت سے متعلق ہے۔
آئی سی سی کے مطابق اس معاملے کا ٹی20 ورلڈ کپ کے سیکیورٹی فریم ورک یا شرکت کی شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔
چیئرمین پی سی بی کا آئی سی سی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار
دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں اس کا فیصلہ حکومت کرےگی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش سے زیادتی ہوئی، پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں اس کا فیصلہ حکومت کرےگی، محسن نقوی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہاکہ ہم آئی سی سی سے زیادہ حکومت پاکستان کے فیصلوں کے پابند ہیں، بھارت اور بنگلہ دیش کے لیے الگ الگ قوانین سمجھ سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم وہی کریں گے جو حکومت کہے گی، پاکستان اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر کرےگا۔












