اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر فروخت کا دباؤ غالب رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 400 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے دوچار ہو گیا۔

صبح 9 بج کر 45 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 427.60 پوائنٹس یعنی 0.23 فیصد کمی کے ساتھ 187,952.78 پوائنٹس پر موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟

فروخت کا دباؤ اہم شعبوں میں دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریاں شامل تھیں۔

اے آر ایل، حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل، ایم سی بی اور یو بی ایل سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر ڈالنے والے شیئرز سرخ نشان میں ٹریڈ کرتے رہے۔

ایک اہم پیش رفت میں مختلف تجارتی تنظیموں نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کے ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کو ساختی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے، حالانکہ پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کی سہولت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: مثبت آغاز کے بعد اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس 600 پوائنٹس گرگیا

گزشتہ روز یعنی بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار ملا جلا رہا، تاہم توانائی، بجلی کی پیداوار اور بینکاری شعبے کے منتخب حصص میں خریداری کے باعث مارکیٹ معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوئی۔

مسلسل اتار چڑھاؤ اور کیش و فیوچر مارکیٹ میں منفی رجحان کے باوجود بینچ مارک انڈیکس مثبت زون میں بند ہوا۔

 

بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یعنی 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہواتھا۔

عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے جمعرات کو کچھ وقفہ لیا، جہاں ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے مالی نتائج اور ایپل کے نتائج سے قبل احتیاطی رجحان دیکھا گیا، اس دوران امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر دباؤ کا شکار نظر آیا۔

سونا اور چاندی کی قیمتیں سرمایہ کاروں کی محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث نئی تاریخی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئیں، جبکہ تیل کی قیمتیں 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچیں۔

مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی

یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ممکنہ حملوں کی وارننگ دی۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے توقع کے مطابق شرحِ سود برقرار رکھی, فیڈ چیئمین جیروم پاول نے معیشت کے واضح طور پر بہتر ہوتے منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں شرح سود برقرار رکھنے پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔

سرمایہ کاروں نے اپریل میں مزید شرح سود میں کمی کے امکانات کو گھٹا کر 26 فیصد کر دیا ہے، جبکہ جون کو اگلی ممکنہ ونڈو تصور کیا جا رہا ہے، جس کے امکانات 61 فیصد ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ