خضدار سے تعلق رکھنے والی اسما جتک کا کیس ایک بار پھر اس وقت سرخیوں میں آ گیا جب ان کے والد ماسٹر عطا اللہ جتک کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ رشتے سے انکار پر شروع ہونے والا تنازع اب تک ایک ہی خاندان کے 3 افراد کی جان لے چکا ہے جبکہ مسلسل دھمکیوں کے باوجود حکام نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔
اسما جتک کیس گزشتہ برس اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا تھا جب انہوں نے بااثر افراد پر اغوا اور تشدد کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ تمام تنازع اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے ایک شخص کی جانب سے شادی کا رشتہ مسترد کر دیا۔ انکار کے بعد انہیں مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہیں۔
مزید پڑھیں:خضدار میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بارود سے بھری 2 گاڑیاں تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک
اپنے والد کے قتل سے صرف ایک روز قبل اسما جتک نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کیا تھا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سابق وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری، نعمت اللہ زہری اور دیگر حکام سے اپیل کی تھی کہ ان کے والد اور بھائی کی جان کو خطرہ ہے، انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
ویڈیو میں انہوں نے کہا تھا کہ اغوا کے مقدمے میں آج تک انصاف نہیں ملا اور مبینہ ملزم دوبارہ اغوا اور قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ان کے مطابق ان کے والد کو یہاں تک کہا گیا تھا کہ ’اپنے لیے کفن تیار کر لو‘۔
پولیس کے مطابق ماسٹر عطا اللہ جتک کو منگل کے روز خضدار کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں اس وقت فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جب وہ عصر کی نماز کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ ایس ایس پی خضدار دوستین دشتی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قتل کے محرکات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
Earlier this morning, Asma Jatak released a video statement, pleading that the government and the state backed warlords are colluding and that no legal action is being taken against the culprits. Just a few hours later, her father was murdered.@amnesty@UNHumanRights… pic.twitter.com/V5M0WYnOGh
— Nadir Baloch (@nadirbaluchs) August 4, 2026
مقتول کے بیٹے عطا اللہ جتک نے وی نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ 2025 سے ان کے خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ ان کے بقول انہوں نے متعدد بار ضلعی انتظامیہ، پولیس اور وزیراعلیٰ ہاؤس سمیت متعلقہ حکام کو تحریری درخواستیں بھی بھیجیں، تاہم کسی نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔
عطا اللہ جتک نے کہا کہ ان کی بہن کے اغوا کے بعد بنائی گئی ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر سامنے آئیں تو اسما نے جواب میں قرآن پاک اٹھا کر اپنا ویڈیو بیان جاری کیا، لیکن اس ویڈیو کے قریباً 2 گھنٹے بعد ان کے والد کو قتل کر دیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ محض ایک قتل نہیں بلکہ طویل کڑی ہے۔ اسی تنازع میں سب سے پہلے اسما کے منگیتر کو قتل کیا گیا، اس کے بعد ان کے ماموں کو نشانہ بنایا گیا اور اب ان کے والد کو قتل کر دیا گیا، جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ اسی معاملے پر ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے مزید 3 افراد بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کیونکہ انہوں نے اسما کے اغوا کے خلاف احتجاج میں خاندان کا ساتھ دیا تھا۔
مزید پڑھیں:سولر سسٹم پر چلتا خضدار کا گاؤں
Jamaat e Islami lawmaker @MHidayatRehman alleges that chief jhalawan NawabSanaullahZehri was responsible for Asma Jattak case pic.twitter.com/YVnEp0HL1p
— Quetta Voice (@VoiceQuetta) August 5, 2026
دوسری جانب اسما جتک کے والد کے قتل کا معاملہ بلوچستان اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا۔ اسپیکر نے آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی خضدار اور ایس پی خضدار سے رپورٹ طلب کرلی، جبکہ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے پولیس کو 2 روز کے اندر کارروائی اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ ایف آئی آر پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے اسمبلی کو آگاہ کیا جائے گا۔
اسما جتک کے والد کے قتل کے بعد سوشل میڈیا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نہ صرف قتل کی شفاف تحقیقات کی جائیں بلکہ اغوا، دھمکیوں اور خاندان کے دیگر افراد کے قتل سے متعلق تمام الزامات کی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔











