لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کے واقعے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس افسران پر تشدد اور زبردستی قتل کا اعتراف کرانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر
لاہور بھاٹی گیٹ کے قریب پیش آنے والے واقعے میں جاں بحق خاتون اور بچی کے شوہر غلام مرتضیٰ نے کہا ہے کہ پولیس نے واقعے کی اطلاع دینے پر انہیں ہی حراست میں لے لیا۔ نجی ٹیلیویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے ان پر تشدد کیا اور دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیوی اور بچی کے قتل کا اعتراف کریں۔

غلام مرتضیٰ کے مطابق وہ اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ سیر کے لیے آیا تھا اور ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے دونوں کو اپنی آنکھوں سے سیوریج لائن میں گرتے دیکھا، مگر پولیس افسران ان کی بات ماننے کے بجائے انہیں جھوٹا قرار دیتے رہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کا موبائل فون ضبط کر لیا اور ان کے کزن تنویر کو بھی حراست میں رکھا گیا۔ غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت ان کا ایک بیٹا والدہ کے پاس موجود تھا، اس کے باوجود پولیس مسلسل قتل کا الزام عائد کرتی رہی۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور سیوریج لائن حادثہ: کتنے ترقیاتی منصوبے حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری ہیں؟
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ ابتدا میں پولیس اور متعلقہ اداروں نے اس واقعے کی تردید کی، تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد دونوں کی لاشیں کئی کلومیٹر دور مختلف مقامات سے برآمد ہوئیں۔













