لاہور کی ضلع کچہری میں بھاٹی گیٹ کے علاقے میں مین ہول میں گر کر ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے واقعے کے مقدمے پر سماعت ہوئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے پولیس کی درخواست پر سماعت کے بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
سماعت کے دوران پولیس نے عدالت سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے جزوی طور پر درخواست منظور کرتے ہوئے 4روزہ ریمانڈ دیا۔ ملزمان کی جانب سے محمد احمد چھچر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور: چلڈرن اسپتال انتظامیہ کی غفلت، بچہ مین ہول میں گر کر جاں بحق
سماعت کے موقع پر کمپنی کے سی ای او کے بھائی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ 54 سال میں پہلی بار کورٹ روم میں کھڑے ہوئے ہیں اور اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ملزم سلمان یاسین نے موقف اختیار کیا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے مگر وہ اس میں ملوث نہیں ہیں۔
ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر متعلقہ کمپنی نے جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کے لواحقین کے لیے بطور معاوضہ ایک کروڑ روپے کا چیک پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور مین ہول حادثہ، عظمیٰ بخاری کی فیک نیوز بے نقاب، فوج اور پی ٹی آئی میں تمام راستے بند
واضح رہے کہ بھاٹی گیٹ کے علاقے میں کھلے مین ہول میں گرنے کے باعث ماں اور بیٹی جان کی بازی ہار گئی تھیں، جس پر شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ عدالت کی جانب سے جسمانی ریمانڈ منظور ہونے کے بعد پولیس ملزمان سے مزید تفتیش کرے گی۔














