بلدیہ فیکٹری سے سانحہ گل پلازہ تک، انتظامات میں بہتری نہ آسکی

اتوار 1 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کی حوالگی کا سلسلہ جاری ہے، ایدھی ہوم سہراب گوٹھ سے گزشتہ روز 27 افراد کی لاشیں اہل خانہ کے حوالے کی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ نے سہراب گوٹھ ایدھی سردخانہ میں پراسیس مکمل کرنے کے بعد لاشیں وصول کیں، 27 افراد میں 4 خواتین کی لاشیں بھی شامل تھیں۔

مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحے کے پیچھے قبضہ مافیا ہوسکتی ہے، فیصل ایدھی نے خدشات کا اظہار کردیا

کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے مطابق اب تک سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے 79 افراد میں سے 69 افراد کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئی، رہ جانے والی 10 میتوں میں سے 3 کا ڈی این اے کیا جا رہا ہے جبکہ 7 افراد کے ورثا کی تلاش جاری ہے۔

انچارج شناخت ڈیسک سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق شناخت اینٹی موٹم ڈیٹا (جاں بحق افراد کی گل پلازہ میں موجودگی) پروف آف پریزنس اورموبائل فون لوکیشن کی مدد سے کی گئی ہے۔

’نارتھ ناظم آباد سے شاپنگ کے لیے آنے والی فیملی کے 3 افراد بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں، اینٹی موٹم ڈیٹا سے عمر نبیل، ان کی اہلیہ ڈاکٹر عائشہ اور بیٹے علی کی باقیات کی شناخت کی گئی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اینٹی موٹم ڈیٹا سے خضرعلی، حیدر علی، عامرعلی، ابو بکر، یاسین، صداقت اللہ، یوسف خان، نعمت اللہ اورعبداللہ کی بھی شناخت کی گئی ہے۔

گل پلازہ سے ملنے والی ناقابل شناخت لاشوں کی حوالگی سے متعلق قانون سازی کا نہ ہونا بھی ایک مسلئہ ہے، سینیئر وکیل خیر محمد خٹل کے مطابق ڈی این اے کے باوجود شناخت نہ ہونے والی لاشوں کی حوالگی سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں، لاوارث لاش ملنے کی صورت میں عدالت رفاحی اداروں کو امانتاً تدفین کی اجازت دے سکتی ہے، ورثا کی موجودگی میں ناقابل شناخت لاشوں کی حوالگی عدالتی اختیار نہیں ہے، شناخت نہ ہونے پر اجتماعی تدفین بھی کی جاسکتی ہے۔

قانونی ماہر عابد زمان کا کہنا ہے کہ سانحہ بلدیہ میں لاشوں کی بغیر شناخت تدفین کی گئی تھی، انتظامیہ نے اجتماعی تدفین کرنا تھی لیکن عدالت نے انفرادی حیثیت میں تدفین کا حکم دیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسا سنگین مسلئہ ہے کہ سانحہ کے بعد لواحقین کا ایک اور امتحان اپنے پیاروں کی شناخت کا عمل ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان، 2 افسران معطل

سانحہ بلدیہ سے سانحہ گل پلازہ تک انتظامی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی، سانحہ بلدیہ میں بھی لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کرتے رہے اور اب سانحہ گل پلازہ میں بھی وہی صورت حال ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے مطابق ضلعی انتظامیہ یا کسی اور نے اب تک لاشوں کی حوالگی کے لیے قانونی معاونت کے لیے رابطہ نہیں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کرنا ہی ہوگا، پاکستان کو دبایا نہیں جا سکتا، سینیئر سفارتکار جوہر سلیم

نام نہاد بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب، ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر بی ایل اے کا پرچم لہرا دیا گیا

سام سنگ نے نئے فولڈ ایبل فون کی جھلک دکھا دی، ڈیزائن میں بڑی تبدیلی

سال 2026 کے 6 ماہ: ٹیکنالوجی شعبہ عالمی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں، امریکا اس میدان میں پیچھے رہ گیا

مون سون کے دوران خطرات سے بچاؤ کے لیے جامع روڈ میپ کے تحت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں