ہنگری نے ڈینیوب ندی میں پانی کی سطح انتہائی کم ہونے کے بعد نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نظام کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے 2 بڑے بحری جہاز (بارج) ڈبونے کا ہنگامی فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق اس عارضی تدبیر کا مقصد ندی میں پانی کی سطح بلند کر کے پلانٹ کے ٹربائنز کو بند ہونے سے بچانا ہے۔ حکام کے مطابق ندی میں پانی کی سطح پیر کی صبح تک خطرناک حد تک گرنے کا خدشہ ہے جس کے باعث یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
پلانٹ کو بند ہونے سے بچانے کا عارضی حل
سوشل میڈیا نیٹ ورک فیس بک پر جاری ایک پوسٹ میں ‘مگیار’ نے بتایا کہ تازہ ترین پیشگوئی کے مطابق ڈینیوب ندی کا پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہنگری میں چین کی قدیم تہذیب کی نمائش، ٹیرا کوٹا آرمی کی جھلکیاں
اگر پانی کی سطح بحران کی حد تک گر گئی تو ایٹمی پلانٹ کے فعال 2 ٹربائنز میں سے 1 کو لازمی طور پر بند کرنا پڑے گا۔
Hungary literally SINKS BARGES into a river, racing to keep its nuclear plant running — Bloomberg
Record drought pushed the Danube to historic lows, threating Paks power plant’s cooling system
Authorities are sinking 2 barges & dumping 5,000 tons of stone to raise water levels pic.twitter.com/BdFgelLjbn
— RT Intl (@RT_on_X) August 15, 2026
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ندی کے مخصوص حصے میں 80 میٹر (260 فٹ) لمبے 2 بارج کنٹرولڈ طریقے سے غرق کیے جا رہے ہیں تاکہ فوری طور پر پانی کی سطح بلند ہو سکے اور دونوں ٹربائنز بلا تعطل کام کرتے رہیں۔
مستقل بنیادوں پر زیرِ آب بند کی تعمیر
ہنگری کی حکومت کے مطابق بحری جہاز ڈبونا ایک ہنگامی اور قلیل مدتی تدبیر ہے۔ ندی کے بہاؤ کو مستقل طور پر منظم کرنے کے لیے ندی کی تہہ میں ایک زیرِ آب بند یعنی ‘سل’ تعمیر کیا جائے گا جو ندی کی چوڑائی میں بنایا جائے گا۔
تاہم اس کی تعمیر میں کچھ ہفتے لگیں گے، اس لیے اس درمیانی عرصے میں غرق کیے گئے جہاز ہی پانی کا بہاؤ برقرار رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔
شدید خشک سالی اور ایٹمی توانائی کا مستقبل
ڈینیوب ندی میں پانی کی نچلی سطح نے پورے خطے کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں:بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے چشمہ یونٹ 5 کے لیے سیف گارڈز معاہدے کی منظوری دے دی
ہنگری کے ہمسایہ ملک رومانیہ نے بھی جمعرات کو ڈینیوب میں پانی کی شدید کمی کے باعث اپنے آخری فعال ایٹمی ریکٹور کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یورپ میں جاری اس شدید خشک سالی نے ہنگری اور رومانیہ دونوں ممالک میں یہ سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور بدلتے موسم کے دور میں ایٹمی توانائی پر کس طرح انحصار کیا جا سکتا ہے۔














