افغان طالبان کے نائب سربراہِ انٹیلیجنس تاجمیر جواد نے طالبان انتظامیہ کے اندر موجود ’موقع پرست عناصر‘ کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بیان طالبان کی اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر دیا۔
جواد کے مطابق طالبان نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نظریاتی، فکری اور مذہبی وابستگی رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، جبکہ صرف مالی مفادات کے لیے طالبان میں شامل ہونے والوں سے نظام کے لیے جدوجہد اور قربانی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
تاجمیر جواد، معاون استخبارات طالبان، میگوید برای استحکام «حکومت اسلامی» و مبارزه با فساد و نفاق تدابیر جدی روی دست دارند. او میگوید برخی افراد بهخاطر منافع مادی با طالبان پیوستهاند و نمیتوان از آنان انتظار تقویت نظام را داشت. pic.twitter.com/38QaaJzEFn
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) August 15, 2026
طالبان نائب سربراہِ انٹیلیجنس نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ماضی میں بعض افراد کو سوویت یونین کے خلاف ’جہاد کی کامیابیوں‘ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا، اسی طرح اب بھی کچھ عناصر طالبان کی 20 سالہ جنگ کی کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوششوں کے مختلف پہلوؤں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور ان کے مقاصد ناکام بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جواد نے طالبان حکومت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو گروپ کی 20 سالہ ’جہاد‘ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام سے نظریاتی، فکری اور مذہبی وابستگی رکھنے والے افراد اس کا دفاع کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مؤقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور حملوں میں حالیہ دنوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق بدخشان کے ضلع نُسی میں منحرف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کے حامیوں اور طالبان فورسز کے درمیان لڑائی پانچویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے بدخشان میں فضائی حملے جاری رکھنے کے ساتھ مزید کمک بھیج دی ہے اور بڑے زمینی آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعہ خان فتح اور طالبان قیادت کے درمیان تنازع کئی ماہ قبل کان کنی کی سرگرمیوں پر شروع ہوا تھا، جو طالبان کے بدخشان کے گورنر کے حکم پر فتح کے متعدد ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد مزید شدت اختیار کرگیا۔














