بنگلہ دیش نے انسانی حقوق سے متعلق سنگین الزامات کے تناظر میں اپنی ایلیٹ قانون نافذ کرنے والی فورس ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کا نام تبدیل کر کے اسپیشل انٹروینشن فورس (SIF) رکھ دیا ہے۔
یہ فیصلہ فورس کی ساکھ بحال کرنے اور اس کے عملی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ اعلان منگل کے روز وزارت داخلہ میں لا اینڈ آرڈر کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے مشیر برائے امورِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیر عالم چوہدری نے بتایا کہ فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہو گا اور اس حوالے سے باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔
مشیر داخلہ کے مطابق، یہ تجویز ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے دی تھی جس کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالحفیظ کر رہے تھے، جو دفاع اور قومی یکجہتی سے متعلق چیف ایڈوائزر کے خصوصی معاون ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف ایڈوائزر نے سفارش کی منظوری دے دی ہے اور اب فورس نئے نام اور نئے عملی فریم ورک کے تحت کام کرے گی۔
وردی میں تبدیلی، امیج ری سیٹ کی کوشش
حکام کے مطابق فورس کی وردی پہلے ہی تبدیل کی جا چکی ہے اور اہلکار جلد نئی وردی میں عوام کے سامنے نظر آئیں گے۔
وزارت داخلہ کے سینئر سیکرٹری نسیم الحق غنی نے تسلیم کیا کہ ریپڈ ایکشن بٹالین کا سابقہ نام عوام میں منفی تاثر اختیار کر چکا تھا، جس کے باعث ری برانڈنگ ضروری سمجھی گئی۔
ریپڈ ایکشن بٹالین کا قیام 2004 میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے دورِ حکومت میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت فورس ملک بھر میں 15 بٹالینز کے ذریعے کام کر رہی تھی، تاہم برسوں کے دوران اس پر ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے۔
امریکی پابندیاں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ
دسمبر 2021 میں امریکا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں ریپڈ ایکشن بٹالین اور اس کے کئی سینئر افسران پر پابندیاں عائد کیں، جن کا اعلان امریکی محکمہ خزانہ اور محکمہ خارجہ نے کیا تھا۔ پابندیوں کی زد میں ایک سابق ڈائریکٹر جنرل بھی شامل تھا۔
بعد ازاں، جولائی اور اگست 2024 کے واقعات پر اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں فورس کو مکمل طور پر تحلیل کرنے کی سفارش کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی ایسے ہی مطالبات کیے۔
بنگلہ دیش پولیس ریفارم کمیشن نے ریپڈ ایکشن بٹالین کی ضرورت پر نظرثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورس کے ماضی کے طرزِ عمل اور الزامات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے، اور عوام دوست پولیسنگ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے فورس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ادارے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔
اصل تبدیلی یا محض علامتی قدم؟
اب یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ریپڈ ایکشن بٹالین کا نام تبدیل کر کے اسپیشل انٹروینشن فورس رکھنا واقعی عملی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا باعث بنے گا، یا یہ محض ایک علامتی اقدام ثابت ہو گا۔
بنگلہ دیش کو اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر سخت نگرانی کا سامنا ہے۔














