بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے کہا ہے کہ انہیں ممبئی یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے ایونٹ سے آخری لمحے میں بلاوجہ خارج کر دیا گیا، اور نہ تو کوئی وضاحت دی گئی اور نہ ہی معافی مانگی گئی۔
نصیرالدین شاہ نے انڈین ایکسپریس میں لکھا کہ یہ تجربہ ان کے لیے بہت ہی توہین آمیز اور مایوس کن تھا کیونکہ وہ طلبا سے بات چیت کے لیے بہت پرجوش تھے۔
مزید پڑھیں:نصیرالدین شاہ نے دِلجیت دوسانجھ کی حمایت میں کیا مؤقف اختیار کیا؟
انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی نے سامعین کو بتایا کہ انہوں نے ایونٹ میں شرکت کرنے سے انکار کیا، جبکہ حقیقت میں انہیں ایونٹ سے بلا وجہ نکال دیا گیا۔ اگر کسی افسر کا خیال ہے کہ میں اپنے ملک کے خلاف باتیں کرتا ہوں، تو میں اسے چیلنج کرتا ہوں کہ وہ صرف ایک مثال بھی پیش کرے۔
نصیرالدین شاہ کو 1980 کی دہائی میں ہندی سینما کے آرٹ ہاؤس فلمز میں ان کے کرداروں کے لیے سراہا گیا، جن میں منڈی، نشانت، آکروش، جانے بھی دو یارو، معصوم اور سپرش شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:نصیرالدین شاہ نے ہندی فلمیں دیکھنا کیوں چھوڑ دیں؟
آئندہ وہ فلم Assi میں تاپسی پنو، ریووتھی، منوج پاہوا اور دیگر کے ساتھ نظر آئیں گے، جو 20 فروری کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ امتياز علی کی نئی فلم میں بھی دکھائی دیں گے، جو جون میں ریلیز ہوگی۔













