گزشتہ کچھ دنوں میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سرگرمیوں اور بیانات نے سیاسی حلقوں میں ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا پارٹی کے سخت بیانیے اور نوجوان کارکنوں کے درمیان مقبول رہنے والے سہیل آفریدی اب مقتدر حلقوں کے قریب ہو گئے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا
سہیل آفریدی کی حالیہ ملاقاتیں، پرو اسٹیبلشمنٹ بیانات اور صوبائی اپیکس کمیٹی کی سربراہی کے بعد یہ سوال سیاسی مبصرین اور پارٹی کے اندرونی حلقوں میں زور پکڑ رہا ہے۔ ان کے بیانات اور رویے میں پچھلے سخت لہجے کی نسبت نرمی دیکھی جا رہی ہے جسے پارٹی کے دیرینہ ارکان بھی محسوس کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کی پارٹی میں پوزیشن اور بیانات
پی ٹی آئی میں سہیل آفریدی مخالف گروپ کے لوگ ان پر عمران خان کے بیانیے سے ہٹنے کا الزام لگارہے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بعد اور حالیہ رویے میں واضح فرق نظر آتا ہے اور بیانات میں بھی نرمی آ چکی ہے۔
مزید پڑھیے: 70 دن بعد واپسی، سہیل آفریدی کی سیاست میں بلوغت
تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی کے اندر گروپنگ ہے اور مخالف گروپ جسے بعض لوگ علی امین گنڈاپور گروپ بھی کہتے ہیں سہیل آفریدی پر تنقید کرتا ہے۔
سہیل آفریدی کے ابتدائی بیانات اور حالیہ ملاقاتیں
وزیراعلیٰ نامزد ہونے کے بعد سہیل آفریدی کا لہجہ سخت تھا اور انہوں نے مقتدر حلقوں پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقات یا ہدایت کے بغیر کسی سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کیا اور صوبے میں جاری آپریشنز کی بھی شدید مخالفت کی۔
تاہم باجوڑ میں جرگے کی ناکامی کے بعد آپریشن ہوا جبکہ تیراہ میں ضلعی انتظامیہ کی سربراہی میں جرگہ کر کے مقامی آبادی کو رضاکارانہ نقل مکانی پر آمادہ کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے متاثرین کی مکمل سپورٹ کا اعلان بھی کیا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کس پی ٹی آئی رہنما کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں؟
گزشتہ ہفتے ضلع خیبر میں جرگے کے دوران انہوں نے قبائل کو لے کر اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا اور اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں مالی امور اور امن و امان کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔
اپیکس کمیٹی اجلاس کی سربراہی
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد سہیل آفریدی نے صوبائی اپیکس کمیٹی اجلاس کی سربراہی کی جس میں کور کمانڈر پشاور بھی شریک تھے۔
اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے فوج اور سول انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ریاست سے افغانستان کے خلاف دہشتگردی کے واقعات میں ثبوت مانگنے والے سہیل آفریدی اس اجلاس میں یکسر مختلف نظر آئے۔ انہوں نے امن کو اولین ترجیح قرار دی اور کہا کہ سول حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔
کیا سہیل آفریدی ’گڈ بوائے‘ بن گئے ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف کے ایک صوبائی رہنما کے مطابق اداروں کے بغیر حکومت چلانا آسان نہیں اور سہیل آفریدی مقتدر حلقوں کے قریب ہو گئے ہیں۔ تاہم پارٹی میں ابھی ان کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں اور اگر وہ اسی طرح چلتے رہے تو علی امین گنڈاپور کی طرح ان کے خلاف بھی بغاوت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عطا تارڑ کا عمران خان کی صحت اور سہیل آفریدی کے رویے سے متعلق اہم بیان
تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی پہلے ہی ’گڈ بوائے‘ تھے لیکن حکومت چلانے کے لیے یہ رویہ مجبوری بھی ہے۔ سینیئر صحافی فرزانہ علی نے کہا کہ سہیل آفریدی نے نامزدگی کے بعد اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کیا ہے اور اب وہ وفاق اور اداروں کے ساتھ مل کر حکومتی معمولات کو بہتر بنانے میں لگے ہیں۔
نوجوان صحافی محمد فہیم کے مطابق سہیل آفریدی ابتدائی دنوں میں گورننس سے زیادہ واقف نہیں تھے لیکن اب وہ سنجیدہ بیانات دے رہے ہیں اور عوام کے لیے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں سہیل آفریدی کو اب حکومت کی مکمل سمجھ آ گئی ہے اور کرسی کی فکر بھی لاحق ہو گئی ہے۔
محمد فہیم کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی چاہے 10 بار کہیں کہ انہیں کرسی کی فکر نہیں لیکن حقیقت میں انہیں فکر ہے اور وہ اب عوام کے لیے بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 100 دنوں کے بعد اب جا کر انہیں اندازہ ہوا ہے کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے اور وفاق کے ساتھ مل کر چلنا کیوں ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے رات گئے اڈیالہ جیل کے باہر سے دھرنا ختم کیوں کیا؟
محمد فہیم نے کہا کہ سہیل آفریدی اب جذبات کے ساتھ ساتھ ہوش کے ساتھ بھی کام کرنا شروع ہو گئے ہیں اور صوبے کو وفاق کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں بہتری آئے اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا بھی اس کے ساتھ نظر آ رہا ہے۔













