ایک اسکییمک اسٹروک اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کو خون پہنچانے والی شریان کسی خون کے لوتھڑے یا رکاوٹ کی وجہ سے بند یا تنگ ہو جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت شناخت اور علاج زندگی بچا سکتا ہے، ورنہ دماغی خلیے چند منٹوں میں مر سکتے ہیں اور حرکت، بولنے یا دیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
اسکییمک اسٹروک کی دو بنیادی اقسام ہیں:
-
تھرومبوسٹک اسٹروک: دماغ کو خون فراہم کرنے والی شریان میں لوتھڑا بننے کی وجہ سے
-
ایمبولک اسٹروک: جسم کے کسی اور حصے، خاص طور پر دل، میں بننے والا لوتھڑا دماغ تک پہنچ جائے
Among patients with acute ischemic #stroke due to non–large vessel occlusion, #tenecteplase administered 4.5 to 24 hours after symptom onset increased excellent outcomes but raised the risk of intracranial #hemorrhage.
📽️ Watch the video & read the full study:… pic.twitter.com/3VL47gA96E
— JAMA (@JAMA_current) February 6, 2026
ماہرین کے مطابق اسٹروک کے خطرے کے عوامل میں شریانوں میں چربی جمع ہونا (ایٹھیروسکلروسس)، بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا، غیر معمولی دل کی دھڑکن (ایٹریل فِبریلیشن)، ذیابیطس، سگریٹ نوشی، موٹاپا اور کولیسٹرول کی زیادہ مقدار شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نیورالنک کی برین چپ کی کامیابی، مفلوج طالبعلم کمپیوٹر استعمال کرنے کے قابل ہوگیا
اسکییمک اسٹروک کی علامات میں ایک طرف جسم میں کمزوری یا سنسناہٹ، بولنے میں مشکل، نظر کی خرابی، اچانک چکر آنا یا توازن کھونا اور شدید بے وجہ سر درد شامل ہیں۔
علاج میں خون کے بہاؤ کو جلد بحال کرنا سب سے اہم ہے۔ اس کے لیے کلاٹ کو تحلیل کرنے والی ادویات (tPA)، بڑی رکاوٹیں ہٹانے کے لیے تھرومبیکٹومی، اینٹی پلیٹلیٹ یا اینٹی کوآگولنٹ تھراپی اور فزیو تھراپی، اسپیچ تھراپی اور پیشہ ورانہ ریہیبلیٹیشن شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکییمک اسٹروک ایک جان لیوا حالت ہے، لیکن بروقت شناخت اور علاج سے مریض کی بحالی کے امکانات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔













