وزیراعظم شہباز شریف نے نیپرا کے فیصلے کو روکتے ہوئے حکم دیا ہے کہ فی الحال میٹر والے سولر صافین کو نیٹ بلنگ پر منتقل نہ کیا جائے اور ان کی نیٹ میٹرنگ جاری رکھی جائے۔
یہ بات وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے بدھ کو ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے بتائی۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ سولر صارفین کے لیے دھچکا کیوں؟
اویس لغاری نے بتایا کہ بدھ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم نے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے نیپرا میں ریویو فائل کیا جائے۔ تاہم اویس لغاری نے واضح کیا کہ سولر سسٹم سے استفادہ کرنے والے جو افراد آئندہ میٹر لگوائیں گے ان پر نیٹ بلنگ والا نیا نظام ہی لاگو ہوگا۔
واضح رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پیر کو تمام موجودہ اور مستقبل کے نیٹ میٹرڈ سولر صارفین (پروزیومرز) کے معاہدوں میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کرتے ہوئے اس کو نیٹ بلنگ سے تبدیل کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قابو میں رکھنا اور مہنگے اور غیر مؤثر سرکاری بجلی کے نظام کی حفاظت کرنا بتایا گیا ہے۔
اس سے مراد یہ بھی ہے کہ صارفین جو پہلے دن کے اضافی یونٹس گرڈ کو دیتے تھے اور رات میں وہی یونٹس ون ٹو ون بنیاد پر واپس حاصل کرتے تھے اب انہیں ہر یونٹ کے بدلے کم کریڈٹ ملے گا جس سے سولر صارفین کی سرمایہ کاری اور ماہانہ بجلی کے بل پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: پروٹیکٹڈ بجلی صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد، نیپرا نے بڑا فیصلہ کرلیا
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے یہ بھی ہداہت کی ہے کہ ایک ایسا جامع نظام تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے میٹر رکھنے والے موجودہ سولر صارفین کو نیٹ بلنگ کی جانب منتقل بھی نہ کیا جائے اور ان کو ملنے والی رعایت کی وجہ سے باقی ساڑھے 3 کروڑ صارفین پر جو 80 سے 100 ارب روپے کا بوجھ پڑ رہا ہے اس کو بھی کسی طرح مینیج کیا جائے۔
سولر کنزیومرز کتنے اور میٹر رکھنے والوں کی تعداد کتنی؟
انہوں نے بتایا کہ کل کنزیومر 3 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہیں جبکہ سولر میٹر والے 4 لاکھ 60 ہزار ہیں جو 6 ہزار میگا واٹ پیدا کر رہے ہیں جو یہ زیادہ تر امیر علاقوں میں ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیٹ میٹرنگ ختم، کیا سولر صارفین کے لیے بلنگ مہنگی ہو جائے گی؟
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سولر سسٹم استعمال کرنے والے افراد 14 ہزار میگا واٹ کے پینل لگا چکے ہیں جن کا نیٹ میٹرنگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
ن لیگ اور پی پی کے دعوے اور اویس لغاری کا جواب
انتخابات سے پہلے ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں ہی کے دعوے تھے کہ بالترتیب 200 اور 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے اینکر نے توجہ دلائی کہ کم سلیب والے پروٹیکٹڈ صارفین پر چارجز بڑھ رہے ہیں جس کے جواب میں لغاری نے کہا کہ فی الوقت پروٹیکٹڈ صارفین کو 62 فیصد سے لے کر 89 فیصد تک کی رعایت حاصل ہے یعنی وہ لوگ بجلی کی 10 تا 40 فیصد قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ پہنچ چکی ہے تو اتنے بڑے ڈسکاؤنٹ کا مطلب یہی ہے کہ الیکشن میں کیے گئے وعدے پورے کیے جا رہے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ
اویس لغاری نے بتایا کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ کنزیومرز کا معاملہ اب تک یہ تھا کہ وہ جو سسٹم لگاتا تھا اس کی قیمت 2 سال میں پوری واپس وصول کرلیتا تھا جو تقریباً 50 فیصد منافع بنتا ہے اور اب نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر شفٹ ہونے پر اس کو 37 فیصد منافع سالانہ ملے گا یعنی ان کا منافع صرف 14 فیصد ہی کم ہوگا جبکہ عام صارفین کو اس کا بڑا فائدہ پہنچے گا۔













