اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے حملے کو ‘گھناؤنا اور بزدلانہ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہ میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا ہے۔
سلامتی کونسل کے صدر جیمز کیریوکی نے بیان میں کہا کہ کونسل اس حملے کی ‘شدید ترین الفاظ میں’ مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے عبادت گزاروں کے خلاف بے معنی تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
سلامتی کونسل نے متاثرین کے اہلِ خانہ، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے ‘دلی ہمدردی اور تعزیت’ کا اظہار کیا اور زخمیوں کی ‘جلد اور مکمل صحت یابی’ کی دعا کی۔
اپنے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کونسل نے کہا کہ ‘دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔’
بیان میں مزید کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ‘ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔’
کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ، امریکا کی مذمت
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حملے کی سخت مذمت کی تھی۔ ان کے ترجمان نے کہا کہ ‘شہریوں اور عبادت گاہوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں’ اور ذمہ دار عناصر کو شناخت کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
واضح رہے کہ یہ حملہ 6 فروری کو اسلام آباد کے نواحی علاقے میں واقع امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران کیا گیا۔ سرکاری حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 38 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور انہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔














