ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے، جہاں بلوچستان کے شہر نوکنڈی اور سبی 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ سب سے گرم مقامات رہے۔
محکمہ موسمیات نے کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ این ڈی ایم اے نے آئندہ دنوں کے لیے بارش، گرمی اور ممکنہ خطرناک موسمی صورتحال کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
بلوچستان کے شہر نوکنڈی اور سبی گزشتہ روز ملک کے گرم ترین شہر رہے، جہاں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز دالبندین میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رواں موسم کی اب تک کی سب سے زیادہ گرمی دیکھی گئی، جہاں پارہ 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ کوئٹہ میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 سے 39 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے 7 جون تک ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ موسمی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ ہفتے کے دوران ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں ہواؤں کے دو الگ سلسلے داخل ہوں گے۔ ایک طرف کمزور مرطوب ہوائیں جنوبی اور مشرقی علاقوں کو متاثر کریں گی، جبکہ دوسری جانب مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے شمالی حصوں پر اثر انداز ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی بلوچستان کے علاقوں بارکھان اور کوہلو میں بارش کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 3 اور 4 جون کے دوران شمالی بلوچستان، جنوبی پنجاب اور شمالی علاقوں میں موسم ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ اسی دوران بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، خطہ پوٹھوہار اور مشرقی پنجاب میں 5 سے 7 جون کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔
الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلاف) کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
شسپر، گلکن، درکوٹ، ریشن اور بدسوات سمیت مختلف گلیشیائی علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور سفر کے دوران مشکلات پیدا ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔














