شام نے شمال مشرقی علاقے سے ایک اور امریکی اڈا خالی کرا لیا

پیر 16 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شام کی وزارتِ دفاع نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے شمال مشرقی علاقے میں واقع الشددادی فوجی اڈا امریکی افواج سے سنبھال لیا ہے۔ یہ پیش رفت چند روز قبل اردن اور عراق کی سرحد کے قریب ایک اور تنصیب کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

وزارت کے بیان کے مطابق، شامی عرب فوج کی افواج نے امریکی فریق سے ہم آہنگی کے بعد حسکہ کے دیہی علاقے میں الشددادی فوجی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

امریکی اتحاد اور داعش کے خلاف کارروائیاں

الشددادی قصبے کے باہر قائم اس اڈے پر امریکی افواج تعینات تھیں، جو شدت پسند تنظیم  داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ تھیں۔ اسی قصبے میں ایک جیل بھی موجود تھی جہاں کرد فورسز نے جہادی تنظیم کے ارکان کو قید کر رکھا تھا، تاہم گزشتہ ماہ حکومتی افواج کی پیش قدمی کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ اس کی افواج نے اردن اور عراق کی سرحد کے قریب واقع التنف اڈا بھی خالی کر دیا ہے۔

کرد فورسز اور بدلتی امریکی حکمتِ عملی

کرد قیادت میں قائم سیرین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) امریکا کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی اہم شراکت دار رہی ہے اور 2019 میں شام میں داعش کی علاقائی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

تاہم دسمبر 2024 میں طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے والے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد امریکا نے دمشق کی نئی حکومت سے تعلقات میں پیش رفت کی ہے اور حال ہی میں عندیہ دیا ہے کہ کرد اتحاد کی ضرورت بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔

اگرچہ داعش کی علاقائی شکست ہو چکی ہے، مگر تنظیم اب بھی سرگرم ہے۔

امریکی فضائی حملے جاری

یونائیٹڈ اسٹیٹس سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس کی افواج نے رواں ماہ شام میں داعش کے 30 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق، 3 سے 12 فروری کے درمیان کیے گئے فضائی حملوں میں داعش کے ’انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

واشنگٹن کا محتاط اطمینان

مارکو روبیو نے اتوار کو براتسلاوا کے مختصر دورے کے دوران کہا کہ امریکا شام کی صورتحال کے ’رخ‘ سے مطمئن ہے، جہاں حکومت نے کرد اقلیتی گروہوں کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

روبیو کا کہنا تھا، ’کچھ دن ایسے بھی آئے جو تشویشناک تھے، لیکن ہمیں موجودہ سمت پسند ہے۔ ہمیں اسے اسی راستے پر برقرار رکھنا ہوگا۔ ہمارے اچھے معاہدے موجود ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے روس شام میں اپنا فوج و سیاسی اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں، پیوٹن اور احمد الشرع کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شامی حکام اور کرد اقلیت کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق، حکومت کو دروز، بدوؤں اور علوی برادری سمیت شام کے متنوع معاشرتی عناصر کے ساتھ بھی ایسے ہی معاہدے کرنا ہوں گے۔

خطے میں نئی صف بندیاں

امریکی اڈوں کی واپسی اور شامی افواج کی پیش قدمی خطے میں طاقت کے توازن میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی شامی حکومت داخلی مفاہمت، سلامتی اور انسدادِ دہشتگردی کی حکمتِ عملی کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

معروف PUBG کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال کیسے ہوا؟ موت کی وجہ سامنے آگئی

اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ