باپ چاہے امیر ہو یا غریب، بااثر ہو یا عام آدمی اپنی اولاد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا خواہ بات اپنی جان ہی دینے کی کیوں نہ ہو۔ ایسا ہی معاملہ سعودی عرب کے کھوبر شہر کے قریب پیش آیا جہاں ایک فوجی جنرل نے ڈوبتے بیٹے کو بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگادی لیکن خود اپنی ہی زندگی کی بازی ہار گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے محکمہ پاسپورٹ کے اعلیٰ عہدیدار بریگیڈیئر جنرل سالم بن مسلم آل عبید السھلی نے نصف القمر ساحل پر تیراکی کرتے اپنے جوان بیٹے کو جب ڈوبتے دیکھا تو ان کی پدرانہ محبت کا اس وقت صرف ایک ہی تقاضہ تھا کہ وہ اپنے لخت جگر کو اس مشکل سے نکالیں لہٰذا اس مقصد کے لیے وہ فوراً ہی سمندر میں کود پڑے۔
بریگیڈیئر جنرل سالم نے بیٹے کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن اسی جدوجہد میں وہ سمندر کی بپھری لہروں کے آگے بے بس ہوگئے اور گہرائی میں ڈوب گئے۔ باپ کی اولاد کے لیے اس قربانی کی سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی اور ہر ایک نے ہی باہمت بریگیڈیئر کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ان کی نماز جنازہ ریاض صوبے کے شہر المعجمہ کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جہاں بریگیڈیئر جنرل سالم السھلی کے لیے دعا کی گئی اور التویجری اسٹریٹ پر جامعیین کالونی میں مرحوم کے گھر پر تعزیتی اجتماعات منعقد ہوئے۔
مرحوم کے لیے رحمت اور مغفرت کے لیے دعائیں جاری ہیں۔ اس دوران مرحوم کی امتیازی صفات و خوبیوں کا تذکرہ بھی کیا جا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں شہریوں نے بریگیڈیئر جنرل کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔














