’دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے‘، ایرانی وزیر خارجہ امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے جنیوا پہنچ گئے

پیر 16 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے وزیر خارجہ امریکی حکام کے ساتھ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچ گئے ہیں۔

تہران کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جوہری امور پر بالواسطہ مذاکرات منگل کو ہوں گے، جن کی میزبانی عمان کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ

واشنگٹن اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ قوتوں جیسے دیگر معاملات بھی زیر بحث آئیں۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اس ماہ دوبارہ شروع ہوئے ہیں، اس سے قبل گزشتہ جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر غیر معمولی بمباری مہم کے بعد بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کے 400 کلوگرام سے زائد ذخیرے کے مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے، جس کا آخری بار معائنہ جوہری نگران ادارے کے انسپکٹرز نے جون میں کیا تھا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی اور ماہرین پر مشتمل وفد کے ہمراہ جنیوا پہنچے ہیں تاکہ جوہری مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کر سکیں۔

عباس عراقچی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے ملاقات کی اور کہاکہ وہ عمان کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے، جو منگل کو ہونے والے مذاکرات کی میزبانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے حقیقی تجاویز کے ساتھ جنیوا میں موجود ہیں، تاہم دھمکیوں کے سامنے جھکنا مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی اپنے دورے کے دوران سوئس ہم منصب اور دیگر بین الاقوامی عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو مذاکرات کے لیے روانہ کیا ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی ہیں۔

مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹم بم کی تیاری کی جانب گامزن ہے، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

جمعہ کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی بہترین چیز ہوگی، اور انہوں نے مشرق وسطیٰ میں دباؤ بڑھانے کے لیے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی روانہ کیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر امریکا اقتصادی پابندیاں ختم کرے تو تہران یورینیم ذخیرے کے معاملے پر سمجھوتے پر غور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکی سنجیدگی دکھائیں تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران سے افزودہ یورینیم کا مکمل خاتمہ اور مستقبل میں افزودگی کی صلاحیت کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ افزودگی کی تمام صلاحیت اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کیا جانا ضروری ہے۔

فروری میں مسقط میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی وفد کی قیادت کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے